Search This Blog

Showing posts with label Pak.std For Class X -Ur. Show all posts
Showing posts with label Pak.std For Class X -Ur. Show all posts

Saturday, 1 February 2025

Chapter 13 - Shahariyon K Haqooq Ka Tahafooz Aur Idaaro Ka Kirdaar - Pakistan Studies (مطالعہ پاکستان - دہم کلاس کے لۓ) - Text Book Exercise

GO TO INDEX
تیرھواں باب - شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور اداروں کا کردار
درسی کتاب کی مشق


مشق اپنی معلومات اور تفہیم کا جائزہ لیجیے۔
درج ذیل سوالات کے جوابات دیجیے

سوال نمبر ۱: عوامی شکایات کی دادرسی میں محتسب کے کردار پر روشنی ڈالیے۔
جواب: محتسب اداره کا کردار:
محتسب کے ادارہ:
اس ادارے کو عام طور پر غریب کی عدالت " سمجھا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے لوگوں کی تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اہم خدمت انجام دیتا چلا آرہا ہے۔

محتسب:
محتسب ایک سرکاری عہدیدار ہوتا ہے، جسے حکومت یا پارلیامنٹ کی جانب سے خود مختاری کے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے۔ اسے بد انتظامی کی شکایات پر توجہ دینے یا حقوق کی خلاف ورزی کی تفتیش کے ذریعے مفاد عامہ کی نمائندگی کرنے کی ذمے داری سونپی جاتی ہے۔

محتسب کا کردار:
انتظامی احتساب پر عمل درآمد کرانے سے ان کے کردار سے یقین دہانی ہوتی ہے، کہ عوامی خدمات کی سر گرمیوں، خصوصاً فیصلہ سازی کے لیے اختیارات کا استعمال نہ صرف مناسب ہو بلکہ مستقل منصفانہ ہو۔

محتسب کا مقاصد:
  • محتسب کا مقصد، کسی شخص سے ہونے والی کسی نا انصافی کی تفتیش اور درستگی کے عمل کے ذریعے، انتظامی احتساب پر عملدرآمد کرانے کے نظام کو ادارے کا روپ دینا ہوتا ہے۔
  • محتسب کو ان لوگوں کو ہر جانہ یا معاوضہ دینے کا اختیار ہوتا ہے، جن کو بد انتظامی کے نتیجے میں نقصان یا خسارہ ہوتا ہے.
  • اس ادارے کا مقصد، شہری اور منتظم کے درمیان حائل دوڑی کو ختم کرنا ہوتا ہے ، تاکہ انتظامی طریقہ کار اور عملدرآمد کی کاڑوائی کو بہتر بنایا جائے۔
  • محتسب کا اداره، صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے میں مڈ کرتا ہے۔
  • ;محتسب کو اختیار دیا گیا ہے، کہ وہ عام متاثرہ شخص کی شکایات وصول کرے ، سمجھے اور ان کی تفتیش کرے۔
  • مقاصد کے حصول کی خاطر محتسب کا ادارہ، عوام کے لیے بہت زیادہ قابل رسائی ادارہ بنایا جا چکا ہے۔

سوال نمبر ۲: درج ذیل پر مختصر نوٹ لکھیے :
(الف) پاکستان میں خاتون محتسب کا کیا کردار ہے؟
(ب) سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ شعبہ انسانی حقوق (HRC) کا کیا کردار ہے؟

(الف) پاکستان میں خاتون محتسب کا کیا کردار ہے؟
جواب: پاکستان میں خاتون محتسب کا کردار:
پاکستان میں خاتون محتسب ملازمت اور کام کاج کے مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنے اور خوفزدہ کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ ۲۰۱۰ء کے تحت یہ ادارہ وجود میں آیا، جسے پاکستان کی پارلیامنٹ نے منظور کیا تھا۔

کردار:
اس قانون کو ملازمت اور کام کاج کے مقامات پر خواتین کو ہر اساں اور خوف زدہ کرنے کی شکایت پر فوری طور پر مؤثر ازالے کے غرض سے نافذ کیا گیا ہے۔

مقصد:
  • اس قانون کا مقصد کسی بھی مرد یا خاتون کو دھمکی یا ہراساں کی سرگرمیوں کے خلاف مڈ فراہم کرنا ہے، جو مستقل یا کانٹریکٹ کے تحت عارضی ملازم ہو، یا اسے روزانہ ہفتے وار، ماہانہ پانی گھنٹے کی بنیاد پر ملازمت دی گئی ہو اور اس میں عارضی یا کارآموز ملازمین بھی شامل ہیں۔
  • اس ایکٹ کا مقصد خواتین کے لیے محفوظ کام کا ماحول پیدا کرنا ہے، جو خوف، گالم گلوچ اور ہر اسکی سے آزاد ہو، تاکہ وہ عظمت سے کام کرنے کے حق کو استعمال کریں۔

شکایات درج کرانے کا طریقہ:
متاثرہ شخص مفت میں آن لائن یا ڈاک کے ذریعے خاتون محتسب اسلام آباد یا صوبوں میں اُن کے مقڑ کردہ نگراں افسر کے پاس شکایت داخل کر سکتا ہے۔

(ب) سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ شعبہ انسانی حقوق (HRC) کا کیا کردار ہے؟
جواب: شعبہ انسانی حقوق (HRC)، سپریم کورٹ:
شعبہ انسانی حقوق، سپریم کورٹ میں قائم کیا گیا ہے۔

کردار:
وہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عوام کی جانب سے براہ راست ارسال کردہ درخواستوں پر کاڑوائیاں کرتا ہے۔

مقصد:
اس شعبے کے قائم ہونے کا اہم مقصد، عوام کو وسیع پیمانے پر جلد از جلد اور بلا قیمت مصیبت سے نجات فراہم کرنا ہے۔

وظائف یا فرائض:
  • شعبۂ انسانی حقوق کے بہت سے وظائف ہیں۔
  • وہ ای۔ میل یا ڈاک کے ذریعے عوام کی جانب سے ارسال کردہ درخواستیں وصول کرتا ہے۔ شعبہ انسانی حقوق (HRC)، متعلقه فریقین کی جانب خطوط ارسال کرتا ہے اور شکایات کے متن ‌ پیرا گراف کے بارے میں رپورٹ طلب کرتا ہے۔
  • علاوہ ازیں، یہ انتظامی اعتبار سے عوام کو فوری انصاف بھی فراہم کرتا ہے۔
  • بیرونی ممالک میں رہائش پذیر شہریوں کے لیے شعبہ شکایات بھی قائم کیا گیا ہے، جو پاکستان سے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی شکایات پر مبنی درخواستوں پر کاروائی کرتا ہے۔

سوال نمبر ۳: پاکستان میں وزارت انسانی حقوق کے فرائض کون سے ہیں؟
جواب: انسانی حقوق کی وفاقی وزارت کے فرائض:
وزارت انسانی حقوق کی لاتعداد فرائض ہیںـ چند سب سے زیادہ اہم فرائض درج ذیل ہیں:
  • ملک میں انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق کی صورتحال کے تحفظ سمیت قوانین، پالیسیوں اور جاری اقامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیناـ
  • انسانی حقوق کے ضمن میں وزارتوں، ڈویژنوں اور صوبائی حکومتوں کی سرگرمیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں میں سہولیات فراہم کرنا۔
  • وزارتوں، ڈویژنوں اور صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات اور الزامات پر معلومات، دستاویزات اور رپورٹیں وصول کرنا۔
  • انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات بشمول معذور اشخاص کے حقوق اور بچوں کے حقوق کے ضمن میں تحقیقات اور تفتیش کا حوالہ دینا اور سفارشات پیش کرنا۔
  • انسانی حقوق سے منسلک پاکستان کے لیے اور اس کے خلاف معاملات، نمائندگی کی شکایات اور معاملات کی انجام دہی یا اُن کا دفاع کرنا۔

سوال نمبر ۴: اپنے علاقے میں ہراساں کرنے کے مختلف طریقوں کو پہچانے اور ان میں سے دو کوئی طریقوں پر تفصیلی نوٹ لکھیے۔
جواب: ہراساں کرنے کی مختلف شکلیں ہیں لیکن ہمارے ارد گرد ہراساں کرنے کی سب سے عام شکلیں ہیں:
  • توہین آمیز فقرے اور لطیفے
  • نسلی گالیاں
  • ذاتی توہین صنفی ہراساں کرنا اور
  • کسی خاص نسل کی طرف نفرت یا عدم برداشت کا اظہار۔
نسلی طور پر ہراساں کرنا:
اکثر لوگوں کو رنگ و نسل، نسب، ملک یا شہریت کی وجہ سے ہراساں کیا جاتا ہے، یہ نسلی طور پر ہراساں کرنے کی صورتیں ہیں۔ ایک خاص نسل یا کسی خاص قوم کی کسی خصوصیت، کردار، لہجے ، رسم ورواج ، عقائد یا لباس وغیرہ کا مذاق اڑانایا توہین کرنانسلی طور ہر ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
  • نسلی طور پر ہراساں کرنے والے نسلی توہین کرتے ہیں
  • نسلی لطیفے سناتے ہیں
  • بعض باتوں اور چیزوں پر نفرت انگیز تبصرہ کرتے ہیں اور
  • معمولی سے اختلافات کے سلسلے میں عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

معذوری پر مبنی ہراساں کرنا:
معذوری پر مبنی ہراساں کرنا ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔ اس قسم کا شکار وہ لوگ بنتے ہیں جو :
  • خود معذوری کا شکار۔
  • معذور شخص یا لوگوں سے واقف ہیں۔
  • معذوری کی خدمات استعمال کریں
ایسے معذورو مجبور افراد پر توہین آمیز فقرے کسے جاتے ہیں، انہیں تنگ کیا جاتا ہے، نقصان دہ انداز میں چھیڑا جاتا ہے، ان کو خاص رعایتیں دینے سے انکار کیا جاتا ہے، یا پھر انھیں بالکل اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔


Wednesday, 11 October 2023

Chapter -2 - Tashkeel-e-Pakistan - Pakistan Studies (مطالعہ پاکستان - دہم کلاس کے لۓ) - Text Book Exercise

GO TO INDEX
باب 02 - تشکیل پاکستان
درسی کتاب کی مشق


سوال نمبر 1: فرائضی تحریک کے کیا مقاصد تھے؟

سوال نمبر 2: بھارت 14 اگست 1947ء کو کیوں آزاد نہیں ہوا تھا؟

سوال نمبر 3: تحریک احیاء میں شاہ ولی اللہ کے کردار پر روشنی ڈالیے؟


سوال نمبر 4: پنجاب اور خیبر پختونخوا سے معاشرتی برائیوں کو مٹانے کے لیے سید احمد شہید کی جدوجہد بیان کیجئے؟ جواب: سید احمد شہید بریلوی کی جدوجہد (تحریک مجاہدین):
(iii) معرکۂ اکوڑہ:
سید احمد شہید اور آپ کے جانثار رفقاء دسمبر 1826ء میں نوشہرۂ (شمالی مغربی سرحدی صوبہ) پہنچے اور اسے اپنا مرکز اور صدر مقام بنالیا۔ تو سکھوں نے حملہ کی بھرپور تیاریاں شروع کردیں۔ لہذا آپ کی جماعت سکھوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پہنچی۔ سکھوں کے خلاف پہلی جنگ 21 دسمبر 1826ء کو اکوڑہ کے قریب لڑی گئ، جس میں سکھوں کو شکست ہوگئی۔ معرکۂ اکوڑہ میں 82 مجاہدین جام شہادت نوش فرما گۓ لیکن ساتھ ہی مقتولین کی تعداد قریباّّ ایک ہزار تھی۔
(vii) سید احمد شہید کے خلاف سازشیں:
ابتدا میں تحریک جہاد بہت کامیابی سے جا رہی تھی لیکن فورا ہی سید احمد کے خلاف سازشیں شروع ہوگئيں۔ کچھ قبائلی سرداروں نے آپ کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح مہاراجہ رنجیت سنگھ (1780ء تا 1839ء) نے سردار یار محمد اور اس کے بھائی سلطان خان کو رشوت دی کہ وہ سید احمد کے خلافت کے خلاف سازش کریں۔ سرداروں کی نافرمانیوں کی وجہ سے سید احمد بہت نا امید اور مایوس ہوگۓ۔

(viii) بالا کوٹ کا آخری معرکہ:

سوال نمبر 5: علی گڑھ کی تحریک کے کارنامے بیان کیجیۓ؟

سوال نمبر 6: دو قومی نظریہ کیا ہے؟


سوال نمبر 7: جدوجہد پاکستان میں مسلم لیگ کے کردار پر روشنی ڈالیے؟
جواب: مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد میں مسلم لیگ کا کردار:
برصغیر میں ہندو مسلم تنازع کے بعد مسلمانوں کے تحفظ کے لیے ایک سیاسی جماعت کا قیام ناگزیر ہوگیا تھا۔



مسلم لیگ کا کردار قیام پاکستان کے لیے سنگ میل کی حثیت ثابت ہوا ۔ قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ نے 14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔۔

سوال نمبر 8: جدوجہد پاکستان میں صوبوں نے کیا کردار ادا کیا تھا؟



سوال نمبر 9: ایک نظریاتی ریاست کے شہریوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟


سوال نمبر 10: قائد اعظم کے کردار کی وہ نمایاں صفات واضح کیجیے جو انھیں دوسروں کے لیے نمونہ بناتی ہیں؟
جواب: قائد اعظم کے کردار کی نمایاں خصوصیات:

سوال نمبر 11: بحیثیت گورنر جنرل قائد اعظم کا کردار بیان کیجیے؟





Wednesday, 27 September 2023

Chapter -1 - Pakistan KI Nazriyati Ahsaas - Pakistan Studies (مطالعہ پاکستان - دہم کلاس کے لۓ) - Text Book Exercise

GO TO INDEX
باب 01 - پاکستان کی نظریاتی اساس
درسی کتاب کی مشق

سوال نمبر1: کسی نظريے کے ماخذ کیا ہوتے ہیں؟
جواب: نظریہ کا مفہوم:

نظریے کے لفظی معنی : لفظ نظریہ دو لفظوں "آئیڈیا" اور "لوجی" (آئیڈیالوجی) سے مل کر بنا ہے۔ یہ ایک فرانسیسی لفظ ہے۔

نظریے کے ماخذ:
کسی بھی نظریے کےفروغ کا انحصار افراد کے خلوص لگن، وفاداری اور وابستگی پر ہوتا ہے۔

اسلامی نظریے کے ماخذ:

سوال نمبر2: کسی قوم کے لیے نظریہ کیوں اہم ہوتا ہے؟
جواب: نظریے کی اہمیت:


سوال نمبر3: اسلام میں جمہوریت کے اصول بیان کیجیئے؟
جواب: اسلام میں جمہوریت کے اصول:



سوال نمبر4: نظریہ میں قومی کردار کا کیا مقام ہے؟
جواب: نظریہ اور قومی کردار:


سوال نمبر5: نظریہء پاکستان کے بارے میں قائد اعظم کے ارشادات کا جائزہ لیجیے۔
جواب: نظریہء پاکستان قائد اعظم کے ارشادات کی روشنی میں:
قائد اعظم کے ارشادات:
قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر کے مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں بہت فکرمند تھے۔ انھوں نے مسلم لیگ کی تشکیل نو کی اور اس کو توانائی بخشی اور مسلمانوں کو اس کے جھنڈے تلے جمع کردیا۔ نظریہء پاکستان کے بارے میں قائد اعظم کے خیالات اور تصورات بالکل صاف اور واضح تھے۔ جو کہ درجہ ذیل ہیں۔
مزید برآں نظریہء پاکستان کی اہمیت کو تقویت دیتے ہوۓ قائد اعظم نے علامہ اقبال کی سوچ و فکر کا یہ کہہ کر اعتراف کیا کہ "اقبال کے خیالات اور تصورات بنیادی طور پر وہی ہیں جو میرے ہیں اور بوصغیر کے آئینی امو دستوری مسائل پر غور و خوض اور تجزیے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچا ہوں۔"

سوال نمبر6: کیا نظریہء پاکستان کے بارے میں علامہ اقبال کا کوئی بیان تھا؟ بیان کیجیے۔
جواب: نظریہء پاکستان علامہ اقبال کے ارشادات کی روشنی میں:
علامہ اقبال کے ارشادات:
عظیم مفکر، فلسفی اور شاعر اسلام علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے لیے سختی سے آواز اٹھائی۔ الہ آباد میں دسمبر 1930ء میں منقعد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں آپ نے صدارتی خطبہ دیا، جو کہ عام طور سے خطبہ الہ آباد کے نام سے معروف ہے۔ اپنے خطاب محں آپ نے مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کے تصور کی وضاحت کی علامہ اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ برصغیر میں ایسے لوگ آباد ہیں جو مختلف زبانیں بولتے ہیں اور مختلف مذاہب کے پیروکار ہیں۔ ان کی مختلف ثقافتوں اور تہزیبوں کی نمائندگی کرتے ہوۓ کہک کہ انکی مختلف ثقافتی اور تہزیبی شناخت ہے۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطبہ میں فرمایا۔

سوال نمبر7: کسی نظریے میں کیا کیا چیز شامل ہیں؟
جواب: نظریہ کے ارکان: