Search This Blog

Tuesday, 19 May 2026

Important Solved Short Questions 2026 - Islamiayaat اسلامیات (Compulsory) - For HSC Part / XI (Commerece Group) - By Miss Rabia

Class XI (Commerce)
Islamiyaat اسلامیات (Compulsory)

By Miss Rabia
For Commerce Online Classes 'CLICK HERE'



Important Solved Short Questions 2026

سوال نمبر ۱: قرآن مجید کے لغوی اور اصطلاحی معنی کیا ہے؟
جواب:لغوی معنی: لفظ قرآن قرآ" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں پڑھنا اس لحاظ سے لفظ قرآن کے لفظی معنی ہیں پڑھنا یا وہ کتاب جو بار بار پڑھی جائے۔

اصطلاحی معنی: اصطلاح میں کلام پاک کے عربی الفاظ جو اپنے حقیقی مفہوم کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف سے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ حضرت مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ پر نازل ہوئے اور ایک مصحف میں محفوظ کیے گئے ، وہ قرآن کہلاتے ہیں۔

سوال نمبر ۲: قرآن مجید کے کوئی بھی پانچ صفاتی نام اور ان کا مفہوم لکھیے۔
جواب: قرآن مجید کے صفاتی نام:
قرآن مجید کے پانچ صفاتی نام درج ذیل ہیں:
  • الكتاب ( خاص کتاب): قرآن مجید اہم بنیادی باتوں پر مشتمل ہے۔ مثلا: پچھلی قوموں کے واقعات، عبرت اور نصیحت بھرے قصے اور شرعی احکام وغیرہ۔

  • القرآن ( بار بار بار پڑھی جانے والی ): قرآن مجید کا ذاتی نام ہے جس کے معنی بار بار پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔

  • الفرقان ( فرق کرنے والی): قرآن مجید حق اور باطل ، مسلمان ، کافر اور منافق کا فرق بیان کرتا ہے۔

  • الذكر ( نصیحت): قرآن مجید نصیحت اور خیر خواہی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والی کتاب ہے۔

  • التنزیل (نازل کردہ): قرآن مجید حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے چوں کہ مر حلے وار نازل ہوا ہے۔

  • النور (روشنی): قرآن مجید گمراہی میں ڈوبے ہوئے اور ہدایت کو تلاش کرنے والے انسانوں کو روشنی دے کر سیدھی راہ دکھاتا ہے اور ساتھ ہی حق اور سچ پر روشنی ڈالتا ہے، اس لیے اسے 'نور کہا جاتا ہے۔

  • الشفأ (تندرستی): قرآن مجید ساری جسمانی اور روحانی بیماریوں، مثلا: کفر، نفاق، جہالت ، حسد کے لیے شفا ہے۔

  • التذكرة ( یاد دہانی کرانے والی ): قرآن مجید نیک اور برے لوگوں کے انجام کے قصے بتاتا ہے اور جنت کی نعمتیں اور جہنم کے عذاب یاد دلاتا ہے ۔

  • العلم ( علم دینے والی): قرآن مجید علم اور معرفت کا خزانہ ہے۔

  • البیان ( وضاحت کرنے والی ): قرآن مجید دنیوی اور اخروی تمام معاملات کے متعلق وضاحت کرتا ہے ۔
(نوٹ: کوئی سے پانچ کریں)

سوال نمبر ۳: وحی کی لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کیجیے؟
جواب: وحی کی لغوی معنی: وحی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لفظی معنی خاموشی یا پوشیدہ طور پر دل میں کوئی بات ڈالنا، اشارہ کرتا ہیں۔
وحی کی اصطلاحی معنی: شرعی اصطلاح میں وجی سے مرادوہ پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے پیغمبر ان علیہم السلام تک پہنچایا۔

سوال نمبر ۴: وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى (۳) إِنْ هُوَ لا وَحُ يُوحَى (۴) کا ترجمہ لکھیے۔
جواب: ترجمہ: اور یہ (رسول) اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں بولتے۔ یہ قرآن تو ایک وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ (سورۃ النجم آیت: ۳-۴)

سوال نمبر ۵: وحی کی اقسام بیان کیجئے۔ یا وحی جلی اور وحی مخفی کی تعریف بیان کیجئے۔ یا وحی متلو اور وحی غیر متلو کا فرق بیان کیجئے۔
جواب: وحی کی اقسام: وحی کی دو اقسام ہیں۔
  • ایک قرآن کریم: جسے وہی جلی یا وحی متلو کہتے ہیں اور
  • دوسری حدیث وسنت: جسے وحی نفی یاد می غیر متلو کہتے ہیں۔
وحی کی یہ دونوں قسمیں انسانی رہنمائی میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ قرآن اور حدیث دونوں ہی شرعی ادکام کے بنیادی ماخذ ہیں۔

سوال نمبر ۶: قرآن مجید کی روشنی میں وحی کی صورتیں لکھیے؟
جواب: وحی کی صورتیں: قرآن کریم کے مطابق وحی کی تین صورتیں ہیں۔
  • پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی بات نبی کے دل تک پہنچائی جائے۔
  • دوسری صورت یہ ہے کہ پر دے یا اوٹ کے پیچھے سے نبی کو آواز آتی ہے اور اس تک پیغام پہنچتا ہے۔
  • تیسری صورت یہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کسی نبی یارسول کی طرف وحی لاتے ہیں اور پیغام پہنچاتے ہیں۔
یہ تین صورتیں قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہیں:
"وَمَا كَانَ لِبَشَرِ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِن وَرَأِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحَى بِإِذْنِهِ مَا يَشَأ إِنَّهُ عَلَى حَکیم (سورۃ الشوریٰ آیت: ۵۱)"
ترجمہ: اور کسی آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ اللہ کے حکم سے جو اللہ چاہے القا کرے بیشک وہ بلند و بر تر ہے حکمت والا ہے۔

سوال نمبر ۷: سورۃ البقرہ کا مختصر تعارف بیان کریں؟
جواب: سورۃ البقرہ کا تعارف: لفظ بقرۃ کے معنی گائے یا بیل ہیں۔
  • اس سورہ میں بنی اسرائیل کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں ایک شخص کو قتل کیا گیا تھا اور قاتل کا سراغ نہیں مل سکا۔ جب وارثوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قاتل کا پتا لگانے کی درخواست کی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور انھیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنی قوم سے کہیں کہ : ایک گائے کو ذبح کرو اور اس کا گوشت مردہ شخص کو لگاؤ وہ زندہ ہو کر اپنا قاتل بتائے گا۔ اس سورت کو گائے کے قصے کی وجہ سے 'بقرہ کا نام دیا گیا ہے۔
  • سورۃ البقرہ قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت ہے۔ جو ہجرت کے بعد نازل ہوئی۔ اس میں ۲۸۶ آیات اور ۴۰ رکوع ہیں۔
  • اس سورہ میں مومنین کی تعریفیں اور کفار کی سازشیں بیان کی گئی ہیں اور منافقین کے مکر و فریب کو واضح کیا گیا ہے۔
  • نیز توحید، رسالت، آخرت، عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق کی اصلاح، معاملات کی بہتری اور بہت سے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔
  • اس سورت میں حضرت آدم، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے بعض واقعات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
  • اس سورت کی فضیلت میں سید نارسول اللہ صلى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، جس گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ (صحیح مسلم: حدیث نمبر ۷۸۰)

سوال نمبر ۸: حروف مقطعات کیا ہیں؟
جواب: حروف مقطعات: قرآن کریم کی ۱۱۴ سورتوں میں سے ۲۹ سورتوں کا آغاز منفرد حروف اور کلمات سے ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں استعمال ہونے والے یہ عربی ابجد کے حروف ہیں جو قرآن کی بعض سورتوں کی ابتدائی آیت کے طور پر آتے ہیں۔ جیسا کہ الٓمٓ ، یسٓ ، طٰہٰ ، نٓ، الٓمّٓرٰ ، الٓمّٓصٓ، قٓ اور صٓ وغیرہ ، ان کو حُروفِ مُقَطَّعات کہتے ہیں۔

سوال نمبر ۹: قرآن مجید کن لوگوں کے لیے ہدایت ہے؟
جواب: قرآن مجید پر ہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔ یعنی جو لوگ اپنے آپ کو دنیا میں نافرمانی سے بچاتے ہیں اور دائمی کامیابی چاہتے ہیں، قرآن انھیں ہدایات دیتا ہے۔

سوال نمبر ۱۰: سورۃ البقرہ میں کامیاب (متقی) لوگوں کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں؟
جواب: سورۃ البقرہ میں کامیاب (متقی) لوگوں کی صفات:
جواب: سورۃ البقرہ میں کامیاب (متقی) لوگوں کی درج ذیل پانچ صفات بیان کی گئی ہیں:
  1. ایمان بالغیب
  2. نماز قائم کرنا
  3. اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا
  4. قرآن مجید، پچھلے صحیفے اور تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا
  5. آخرت پر ایمان رکھنا

سوال نمبر ۱۱: کفر کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: کفر کا مفہوم: کفر کا مطلب ہے انکار۔ شریعت کی ضروری باتوں کی نافرمانی یا تو ہین کو کفر کہتے ہیں۔

سوال نمبر ۱۲: سورۃ البقرہ کی آیات ۶ اور ۷ کے مطابق کفار کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ کیوں پڑا ہوا ہے؟
جواب: سورۃ البقرہ کی آیات ۶ اور ۷ کے مطابق کفار کے دلوں اور کانوں پر مہر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال پڑا ہوا ہے، جو اپنی سخت گیری ، ہٹ دھرمی اور دین سے دشمنی میں مجنوں ہو گئے تھے۔ انھیں بتایا گیا کہ ایسی کرتوتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اب وہ ہدایت کے نہیں بلکہ آخرت میں درد ناک عذاب کے مستحق ہیں۔ سید نا رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے انھیں خیر خواہی کے ساتھ دین کی دعوت دیں یا نہ دیں، دونوں باتیں برابر ہیں۔ وہ سیدھے راستے پر نہیں آئیں گے.

سوال نمبر ۱۳: لفظ "انفال" کا مفہوم ٘ بیان کیجئے؟
جواب: لفظ "انفال" کا مفہوم: لفظ انفال، نفل کی جمع ہے۔ جس کے لغوی معنی ہیں: زائد چیز یا بڑھوتری جس طرح لازم عبادات کے علاوہ ثواب کے لیے کی جانے والی عبادت کو نفل کہتے ہیں اسی طرح مال غنیمت کے مقڑہ حصے سے زیادہ انعام کے طور پر دیے جانے والے حصے کو بھی نفل کہتے ہیں۔ یہاں انفال سے مراد مال غنیمت ہے۔

سوال نمبر ۱۴: انفال غنیمت اور فے کا مفہوم بیان کیجیے۔
جنگ میں دشمن کو شکست دینے کے بعد ان کی حاصل شدہ چیزوں کو غنیمت کہا جاتا ہے جبکہ جنگ سے پہلے ہی دشمن ہار مان لے اور فرار ہو جائے تو ان کے چھوڑے ہوئے مال کو مال "فے“ کہتے ہیں۔

سوال نمبر ۱۵: حدیث کے لغوی اور اصطلاحی معنی لکھیے؟
جواب: حدیث کے لغوی معنی: حدیث کے لغوی معنی خبر اور گفتگو کے ہیں۔
حدیث کے اصطلاحی معنی: شرعی اصطلاح میں حضرت مُحمد رسُولُ اللَّهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّم کے قول، فعل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔ اور حدیث کو وحی غیر متلو خبر ، اثر اور سنت بھی کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر ۱۶: "راوی" اور "روایت حدیث" سے کیا مراد ہے؟
جواب: راوی: آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ سے لے کر آخر تک وہ لوگ جنھوں نے حدیثیں بیان کیں انھیں راوی کہا جاتا ہے۔
روایت حدیث: حدیث بیان کرنے کو روایت حدیث کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر ۱۷: سنت کا مفہوم بیان کیجیے؟
جواب: سنت کا مفہوم: سنت کے لغوی معنی 'عادت ، طریقہ اور راستہ ہیں۔ اصطلاح میں حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وسلم کی زندگی گزارنے کی ہر وہ ادا جو کسی قول، فعل، تقریر یا صفت کی صورت میں ہو، جس سے آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِہ وَسَلَّم کی زندگی گزارنے کے عمل اور انداز کا علم ملے، اسے 'سنث کہا جاتا ہے۔ اس سنت کو قرآن کریم نے اسوہ حسنہ سے بیان کیا ہے۔

سوال نمبر ۱۸: میانہ روی کا کیا مطلب ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں؟
جواب: میانہ روی: میانہ روی کا مطلب ہے سوچ سمجھ کر احتیاط سے خرچ کرنا یعنی اخراجات میں نہ کنجوسی کرنا اور نہ فضول خرچی کرنا۔
فوائد: میانہ روی اختیار کرنے سے انسان معاشی پریشانیوں سے بچ سکتا ہے ۔ انسان اپنے اخراجات کو اعتدال میں رکھنے سے اور میانہ روی کی زندگی بسر کرنے سے کبھی کسی کا محتاج نہیں ہو گا۔

سوال نمبر ۱۹: اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے کیا عطا کرتا ہے؟
جواب: اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔

سوال نمبر ۲۰: دین کی سمجھ سے کیا مراد ہے؟
جواب: دین کی سمجھ سے مراد قرآن و حدیث کی سمجھ، دین کے احکام و مسائل کا علم اور حلال و حرام کی تمیز ہے۔

سوال نمبر ۲۱: توحید کی اقسام کی مختصر وضاحت کیجیے؟
جواب: توحید کی اقسام:
  • توحید ذاتی: اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات میں اکیلا ماننا اور اس بات پر یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کے نہ ماں باپ ہیں، نہ اولاد ہے، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے اور نہ کوئی دوسرا اس کا رشتے دار یا ثانی ہے۔

  • توحید صفائی: اللہ تعالیٰ اپنی تمام ذاتی صفات میں اکیلا ہے۔ جس کمال درجے کی یہ صفات اللہ تعالیٰ کی ذات میں ہیں ، کسی اور میں نہیں ہیں۔ جیسے : زندگی، علم، قوت ارادی، قدرت، کلام، سمع، بصر، خلق اور تکوین کی صفات وغیرہ غرض یہ کہ کسی بھی صفت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔

  • تو جید فعلی: توحید فعلی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے افعال یا اعمال میں اکیلا ہے۔ وہ اپنے کسی کام میں کسی دوسرے کے مشورے یا مد د کا محتاج نہیں ہے، جیسے کائنات کی تخلیق، انسانوں اور جانوروں کے لیے رزق کے وسائل پیدا کرنا، موت یازندگی دینا، بیماری یا صحت دینا، قحط یا کثرت سے رزق دینا، کسی کو اولاد دینا یا نہ دینا وغیرہ ، سب کچھ وہ اکیلا ہی کرتا ہے۔

سوال نمبر ۲۲: فرشتوں کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟
جواب: فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے۔

سوال نمبر ۲۳: فرشتے، انسانوں سے کون کون سی صفات میں مختلف ہیں؟
جواب: فرشتے اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق ہیں جو کھانے پینے اور دیگر معاملات اور ضروریات سے بری ہیں، انھیں انسانوں کی طرح کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انھیں نور سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اپنی اصلی شکل میں پر رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی صورت بدلنے کی طاقت دی ہے اور وہ انسانی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔

سوال نمبر ۲۴: فرشتے کیا کام کرتے ہیں؟ یا فرشتوں کی کیا ذمے داریاں ہیں؟
جواب: فرشتوں کا کام اللہ تعالیٰ کی تسبیح اورحمد کرنا، زمین و آسمان کے معاملات پر نظر رکھنا اور مخلوق کی حفاظت کرنا ہے۔ وہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہتے ہیں اور کبھی نافرمانی نہیں کرتے۔
ترجمہ: جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔ (سورۃ التحریم: آیت ۶)

سوال نمبر ۲۶: چار افضل فرشتوں کے نام اور ان کی ذمے داریاں کیا ہیں؟ وضاحت کیجیے؟
جواب: افضل فرشتے اور ان کی ذمے داریاں: تمام فرشتوں میں سے چار فرشتے افضل ہیں جن کے نام اور ذمے داریاں درج ذیل ہیں:
  • حضرت جبرائیل علیہ السلام: ان کا کام انبیائے کرام علیہم السلام پر وحی لانا، نا فرمان قوموں کو سزا دینا اور مظلوموں کی مد د کرنا ہے۔

  • حضرت میکائیل علیہ السلام: ان کے ذمے بارش برسانا، بادلوں اور ہواؤں کا نظام اور رزق پہچانا ہے ، ان کے نیچے بہت سے فرشتے ہیں جو یہ کام انجام دیتے ہیں۔

  • حضرت عزرائیل علیہ السلام: آپ کو ملک الموت بھی کہا جاتا ہے ، یعنی موت کا فرشتہ۔ ان کے نیچے بہت سے فرشتے ہیں جو ہر جاندار کی سانس اس کے مقر رہ وقت پر نکال لیتے ہیں اور اس کی روح قبض کرتے ہیں۔

  • حضرت اسرافیل علیہ السلام: یہ آسمان پر انتظار میں بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت قائم کرنے کا حکم ہو اور جب انھیں حکم دیا جائے گا تو صور پھونک دیں گے۔ اس طرح یہ دو بار صور پھونکیں گے ، پہلی بار تمام چیزوں کو فنا کرنے اور جانداروں کو مارنے کے لیے، اور دوسری بار زندہ کرنے کے لیے۔
ان کے علاوہ اور بھی فرشتے ہیں۔ ان میں کراماً کاتبین یعنی اعمال لکھنے والے اور منکر نکیر یعنی قبر میں سوال کرنے والے ہیں ، طواف کرنے والے، عرش کو سنبھالنے والے، جنت اور جہنم کی نگرانی کرنے والے شامل ہیں۔

سوال نمبر ۲۷: جن انبیائے کرام علیہم السلام پر الہامی کتابیں اور صحیفے نزول ہوئے ان کا ذکر کریں۔
جواب: مشہور ترین چار آسمانی کتابیں درج ذیل ہیں:
  • تورات: یہ کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی جس میں بنی اسرائیل کے لیے مختلف احکام بیان کئے گئے۔
  • زبور: یہ کتاب حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ ساتھ اس قوم کے لیے لائحہ عمل بھی ہے۔
  • انجیل: یہ کتاب حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی جس میں آپ کی امت کی رہنمائی کے لیے مختلف احکامات ہیں۔ لیکن بعد میں لوگوں نے اس کے حقیقی عقائد کو بدل دیا۔
  • قرآن کریم: یہ کتاب حضرت مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ پر تقریبا تیئس سال کے عرصے میں نازل ہوئی۔ اس کتاب میں اسلام کے بنیادی عقائد، عبادات، اخلاق، سیرت نبوی صلى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلى آله وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ، سابقہ انبیائے کرام اور ان کی امتوں سے متعلق مختصر واقعات، شرعی احکامات اور آخرت کا بیان ہے۔
ان الہامی کتابوں کے علاوہ بعض انبیا پر صحیفوں کی صورت میں چھوٹی چھوٹی کتا میں نازل ہوئیں جن میں حضرت آدم علیہم السلام ، حضرت ادریس علیہم السلام ، حضرت ابراہیم علیہم السلام اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے صحیفے شامل ہیں۔

سوال نمبر ۲۸: حدیث مبارکہ کے مطابق بچوں کو کب نماز کی تاکید کرنا چاہئیے؟
جواب: حدیث شریف کے مطابق سات سال کی عمر میں نماز شروع کرنے کا حکم ہے اور دس سال کی عمر میں اس کی سختی سے تاکید کی گئی ہے اور والدین کو اولاد پر سختی بھی کرنی چاہیے۔

سوال نمبر ۲۹: نماز کے کچھ آداب اور شرائط بیان کیجیے۔
جواب: نماز کے آداب اور شرائط: نماز کے کچھ آداب اور شرائط ہیں جو ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں:
  • اسلام، عقل، ستر عورت، استقبال قبلہ ۔
  • نماز سے پہلے جسم، کپڑے اور جگہ پاک اور صاف ہونے چاہیں۔
  • نماز سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے۔
  • نماز مقر رہ وقت پر ادا کرنی چاہیے۔
  • نیت کرنا۔
  • باجماعت نماز پڑھنے کا ثواب اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنازیادہ ہے۔
  • خشوع و خضوع سے نماز پڑھنا۔

سوال نمبر ۳۱: زکوۃ کے مصارف بیان کیجیۓ؟
جواب: مصارف زکوۃ: زکوۃ کے حقدار کو "مصرف کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۶۰ میں زکوۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں۔
  1. الفقرأ: فقیر اور محتاج، وہ لوگ جن کے پاس کچھ نہیں ہو۔
  2. المساكين: مساکین اور حاجت مند جن کے اخراجات مشکل سے پورے ہوتے ہوں۔
  3. العالمين: محکمہ زکوۃ میں تعینات عملے کی تنخواہ وغیرہ کے لیے۔
  4. المؤلفة قلو بھم : وہ غیر مسلم جن کا مقصد انھیں اسلام کی طرف راغب کرنا ہے.
  5. الرقاب: غلام اور قیدی۔
  6. الغارمين: مقروض اور قرضدار۔
  7. فی سبیل الله : اللہ کی راہ میں کام کرنے والا اور مجاہد۔
  8. ابن السبيل: مسافر

سوال نمبر ۳۲: لیلتہ القدر کی کیا فضیلت ہے؟
جواب: لیلتہ القدر کی فضیلت: زمضان کے آخری عشرے میں ایک رات "لیلۃ القدر" یا "شب قدر" بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات کو خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ لوگ اس عشرے کی طاق راتوں میں اچھی طرح عبادت کر سکیں۔ جس کو یہ رات نصیب ہو گی اسے ہزار مہینوں کی عبادت کرنے سے زیادہ ثواب ملتا ہے۔

سوال نمبر ۳۳: روزہ رکھنے کے کوئی پانچ فائدے تحریر کیجیے۔
جواب: روزے کے فائدے:
  1. روزے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
  2. جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔
  3. انسان نیکی اور پر ہیز گاری کے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے اور برائیوں سے اجتناب کرتا ہے۔
  4. خیر خیرات، صدقات اور فطرے کے ذریعے معاشرے کے غریب اور نادار لوگوں کی مد د کرتارہتا ہے جو اتحاد کے لیے بہترین عمل ہیں۔
  5. دوسروں کی تکالیف کا احساس رہتا ہے اور نیکیوں کی کثرت ہمیں جنت کا مستحق بناتی ہے۔

سوال نمبر ۳۴: حج کس پر فرض ہے؟
جواب: حج اسلام کا ایک اہم رکن ہے، جو ہر صاحب استطاعت، عاقل، بالغ مسلمان مرد اور عورت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، اور اس پر جو گھر کے اخراجات اور قرض ادا کرنے کے بعد حج کے سفر کے اخراجات رکھتا ہو ساتھ ساتھ امن کی حالت میں بھی ہو۔ صاحب استطاعت ہونے کے معنی ہیں کہ بندہ صحت مند ہو، راستے کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو جبکہ راستہ میں کوئی خطرہ بھی نہ ہو ( خواتین کیلۓ شریعی محرم کا ساتھ لازم ہے)۔

سوال نمبر ۳۵: حج کی کتنی اقسام ہیں؟ نام تحریر کیجیۓ۔
جواب: حج کی اقسام: حج کی تین قسمیں ہیں:
  1. اِفْرَادُ،
  2. تَمَتُّعُ اور
  3. قِرَانُ

سوال نمبر ۳۶: احرام کسے کہتے ہیں؟ اور میقات سے کیا مراد ہے؟
جواب: احرام: حج کا آغاز مردوں کے لیے دو سفید چادروں اور عورتوں کے لیے ایک سادہ سا لباس پہنے سے ہوتا ہے، جسے احرام کہتے ہیں۔
میقات: حضور کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے بیان کردہ مخصوص مقامات پر جہاں عامین حج عام کپڑے نکال کر احرام باندھتے ہیں اور وہاں سے حج یا عمرہ کی نیت کرتے ہیں۔ ان مقامات کو میقات کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر ۳۷: حقوق العباد کا مفہوم اور اہمیت بیان کیجیے۔
جواب: حقوق العباد کا مفہوم: حقوق العباد عربی زبان کے الفاظ ہیں۔ حقوق، حق کی جمع ہے، جس کے لفظی معنی ہیں ثابت، درست اور واجب۔ جب کہ بعباد عبد کی جمع ہے جس کے معنی بندہ کے ہیں۔ حقوق العباد کے معنی ہیں بندوںکے حقوق۔

بندوں کے حقوق کی اہمیت: قرآن وسنت میں حقوق اللہ کے بعد سب سے زیادہ اہمیت بندوں کے حقوق کو دی گئی ہے۔ انسانی حقوق میں دنیا کے ہر مذہب، ہر ذات ، ہر نسل، ہر درجہ اور ہر حیثیت کے لوگوں کے حقوق شامل ہیں۔ اگر ہم اپنے واجبات طلب کرتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے واجبات بھی ادا کرنے چاہیں۔ نوکر آقا کی خدمت کرے گا تو آقا بھی نوکر کا خیال رکھے گا۔ اگر والدین اپنی زندگی کا ہر سکھ اولاد کے لیے قربان کر دیں تو اولاد کو بھی چاہیے کہ ان کی خدمت اور عزت میں کوئی کمی نہ کرے۔ اگر بیوی شوہر کی خدمت کرتی ہے تو شوہر کو بیوی کے آرام و سکون کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔ یہ دین اسلام پوری انسانیت کے لیے ہے۔ انسانی حقوق میں والدین، بچے، میاں بیوی، رشتے دار، یتیم، ضرورت مند، مسافر، مستحق، پڑوسی، سوالی، قیدی اور ملازم وغیرہ شامل ہیں۔ بندوں کے حقوق ادا کرنا اہل ایمان اور اہل جنت کا وصف ہے۔ قیامت کے دن نہ صرف حقوق اللہ کا حساب ہو گا بلکہ حقوق العباد کا بھی حساب ہو گا۔

سوال نمبر ۳۸: حقوق العباد کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی فوائد لکھیے؟
جواب: سیاسی فوائد: حقوق العباد کی ادائیگی سے سیاسی طور پر مختلف قومیں ، ممالک اور ریاستیں ایک دوسرے کے قریب ہو جاتی ہیں جس سے آپس میں اتحاد واتفاق قائم ہوتا ہے۔ مسلمان ممالک اور ریاستیں اسلام دشمن عناصر کی بری نیت اور بری نظروں سے محفوظ ہو جاتی ہیں اور اپنے اندرونی معاملات میں آزاد ہو جاتی ہیں۔

معاشی فوائد: ملک، قوم اور ریاست مالی اور معاشی طور پر مستحکم ہوتی ہے۔ ملک میں ترقی اور خوشحالی آتی ہے۔ ملک میں کوئی غریب و مسکین نہیں رہتا تعلیم و صحت کے میدان میں ترقی ہوتی ہے۔ روزگار کے بہتر مواقع حاصل ہوتے ہیں۔

معاشرتی فوائد: حقوق کی ادائیگی سے معاشرے میں پر امن ماحول پیدا ہو تا ہے تعلقات میں بہتری آتی ہے۔ حق داروں کو حقوق ملنے سے نہ صرف ان کی حاجات اور مطالبات پورے ہوتے ہیں بلکہ فریقین کو سکون اور خوشی بھی ملتی ہے اور اللہ تعالی اسے بہتر اجر کی امید بھی ہوتی ہے۔ عدل اللہ انصاف قائم ہوتا ہے جس سے عوام الناس اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے۔

GO TO TOP




No comments:

Post a Comment