Search This Blog

Sunday, 24 May 2026

Important Solved Long Questions 2026 - Islamiayaat اسلامیات (Compulsory) - For HSC Part / XI (Commerece Group) - By Miss Rabia

Class XI (Commerce)
Islamiyaat اسلامیات (Compulsory)

By Miss Rabia
For Commerce Online Classes 'CLICK HERE'


Important Solved Long Questions 2026


سوال نمبر ۱: قرآن مجید کے معجزات کی جدید سائنس کی روشنی میں وضاحت کریں۔
جواب: :قرآن مجید کے معجزے اور جدید سائنس
قرآن مجید اپنے اعجاز ، جامع اندازِ بیان اور حق کا ِپیغام ہونے کے اعتبار سے انسانوں کے لیے معجزہ ہے، قرآن مجید کی بہت سی آیات میں سائنسی حقائق نہایت جامع اور واضح انداز میں بیان ہوئے ہیں جنہیں جدید دور کی تحقیق، تلاش اور ٹیکنالوجی کی مد د سے معلوم کیا گیا ہے۔

مرج البحرین والا معجزہ:
سمندری علم اور پانی پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ نمکین اور میٹھے پانی کا ایک دوسرے سے ملنے کے باوجود ایک دوسرے آپس میں ضم نہ ہونے کا سبب پانی کا سطحی تناؤ (Surface Tension) ہے، جس کی وجہ سے دریا اور سمندر کا پانی ایک دوسرے سے نہیں ملتا ۔ دونوں قسموں کے پانی اپنی اپنی کثافت کی وجہ سے جدا جدا رہتے ہیں ، قرآن مجید اس بات کو یوں بیان کرتا ہے۔
ترجمہ: "دو دریاؤں (کھارے اور میٹھے) کو رواں کیا جو آپس میں مل کر بہتے ہیں۔ ان دونوں کے بیچ میں ایک پردہ ہے وہ اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتے۔" (سورة الرحمن آیت : ۱۹۔ ۲۰)

کائنات پھیلتی رہتی ہے:
بیسویں صدی کے شروع تک کائنات کے متعلق سائنس دانوں کا تصور تھا کہ کائنات ایک خاص بناوٹ رکھتی ہے اور ازل سے موجود ہۓ . لیکن ۱۹۲۹ء میں مشاہدے سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ ستارے اور کہکشائیں () مسلسل ایک دوسرے سے دور ہو رہی ہیں۔ یہ بات کائنات کے مسلسل پھیلنے کی حقیقت کو ثابت کرتی ہے۔ جب کہ قرآن مجید نے کئی سو سال پہلے یہ بات اس انداز سے بیان کر دی ہے۔
ترجمہ: "اور آسمان کو ہم نے (اپنی) قوت سے بنایا ہے اور بے شک ہم ہی (اس کو) وسعت دے رہے ہیں۔" (سورۃ الذاریات آیت ۴۷)

انگلیوں کے پوروں کے نشانات (فنگر پرنٹ ) :
دنیا میں ہر انسان یہاں تک کہ جڑواں بچوں کی انگلیوں کے نشانات الگ الگ ہوتے ہیں یعنی لوگوں کی پہچان ان کی انگلیوں پر بنے کوڈ میں محفوظ ہے جب کہ قرآن مجید صدیوں پہلے اس کی وضاحت کر چکا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے۔
ترجمہ: "کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی بکھری ہوئی ہڈیاں جمع نہیں کر سکتے؟ ضرور کریں گے (اور ) ہم اس بات پر (بھی) قادر ہیں کہ اس کی "(انگلیوں کے ) پوروں کو درست کریں۔(سورۃ القیامۃ آیت: ۴۔۳)

کائنات کی تخلیق (بیگ بینگ):
ماہر فلکیات کائنات کی ابتدا ء اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں بیگ بینگ یعنی عظیم دھماکے گو مانتے ہیں. بیگ بینگ کے مطابق ابتدا ء میں یہ ساری کائنات ایک بڑی کمیت کی شکل میں تھی (جسے بھی کہتے ہیں) پھر ایک عظیم دھماکا یعنی بیگ بینگ ہوا. جس کا نتیجہ کہکشاؤ ں کی شکل میں ظاہر ہوا. پھر یہ کہکشائیں تقسیم ہو کر ستاروں، سیاروں، سورج، چاند وغیرہ کی صورت میں آئیں. قرآن پاک کی درج ذیل آیات میں ابتدا ء کائنات کے بارے میں بتایا گیا ہے
ترجمہ: "اور کیا جن لوگوں نے کفر کیا انہیں معلوم نہیں کہ بیشک سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوۓ تھے تو ہم نے انہیں پھاڑ کر الگ کیا." ( سورة الانبيأ ۔ ۳۰)

اس آیت اور بیگ بینگ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت سے انکار ممکن ہی نہیں، ایک کتاب جو آج سے ۱۴۰۰ سو سال پہلے عرب کے ریگستانوں میں ظاہر ہوئی، وہ اپنے اندر ایسی غیرمعمولی سائنسی حقیقت لیے ہوۓ ہے

سوال نمبر ۲: قرآن مجید کی حفاظت کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں ؟ لکھیے۔
جواب: قرآن مجید کی حفاظت: قرآن مجید اس وحی کا ت تمہ ہے، جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف آتی رہی۔ قرآن مجید قیامت تک تمام بنی نوع انسان کے لیے آخری مکمل اور لازوال ہدایت کی کتاب ہے، اس لیے اس کی بقا اور حفاظت کی اشد ضرورت تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ لیا اور فرمایا:

إِنَّا نَحْنُ نزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (سورة الحجر: آیت ۹)
ترجمہ:
" بیشک یہ کتاب نصیحت ہم نے اتاری ہے اور یقینا ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔"

قرآن کریم کے نزول کو صدیاں بیت چکی ہیں، لیکن اللہ تعالی کی حفاظت کی وجہ سے آج بھی ہمارے پاس وہی قرآن پاک موجود ہے جو سید نارسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ پر نازل ہوا تھا۔ جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

تدوین قرآن مجید: کسی تحریر کے جمع کرنے، ترتیب دینے اور سنبھالنے کے عمل کو تدوین کہتے ہیں۔ قرآن مجید کی تدوین کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کو وحی کے ذریعے نازل ہونے کے بعد کتابی شکل میں جمع کرنا۔
قرآن مجید آسمان سے، تحریری یا کتابی شکل میں نازل نہیں ہوا۔ بلکہ وحی کے مختلف طریقوں سے لفظی انداز میں نازل ہوا۔ جن کو حضور اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے دو طریقوں سے محفوظ فرمایا۔ ایک حفظ کے ذریعے اور دوسرا تحریری شکل میں۔ قرآن مجید کی تدوین کے درج ذیل تین ادوار ہیں:
  1. پہلا دور (عہد نبوی خاتم النبین صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ)
  2. دوسرا دور (عہد صدیقی رضی اللہ عنہ)
  3. تیسرا دور (عہد عثمانی رضی اللہ عنہ)
پہلا دور (عہد نبوی صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے دور میں قرآن مجید کی تدوین):
اسلام کے ابتدائی دور میں عرب پڑھنے لکھنے کے عادی نہیں تھے۔ جب حضور کریم خاتم النبین صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو اس وقت بھی مکہ میں چند لوگ لکھنا جانتے تھے۔ ان میں خلفائے راشدین بھی شامل ہیں۔ پھر خاتم النبین رسول اللہ صلى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی تعلیم و تربیت کی وجہ سے پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر اس زمانے میں کاغذ کی سہولت کم ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی کتابت چمڑے، جلد نما جھلی پردے، چکنے پتھر ، کھجور کے پتوں، لکڑی کی تختیوں اور چوڑی ہڈیوں پر کی جاتی تھی۔

حضور کریم خاتم النبین صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّم پر جو بھی وحی نازل ہوتی تھی آپ ایک کاتب کو بلا کر ہدایت فرماتے تھے کہ نازل شدہ آیات کو فلاں سورت کی فلاں آیت کے بعد شامل کیا جائے۔ اس طرح حضور اکرم خاتم النبین صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی نگرانی میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن مجید حفظ بھی کرتے جاتے تھے اور مختلف چیزوں پر وہ سورتیں اور آیات لکھتے جاتے تھے۔ اس طرح پورا قرآن مجید آپ خاتم النبین صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے مبارک دور میں لکھ کر مکمل ہوا۔

دوسرا دور (عہد صدیقی) :
سید نا رسول الله خاتم النبین صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے وصال کے بعد جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمے داری سنبھالی تو انھیں زکوۃ کے منکروں اور نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے خلاف کاروائیاں کرنی پڑیں۔ جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے زبر دست مقابلہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں سیکڑوں قرآن مجید کے حافظ اور قاری شہید ہو گئے۔ اس علمی نقصان کے پیش نظر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشترکہ مشورے سے مختلف تحریروں سے قرآن کو جمع کر کے ایک مصحف میں مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس عظیم اور با برکت کام کے لیے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں چند صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں کچھ مہاجرین اور کچھ انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قرآن مجید کا مواد لے کر اور جمع کرنے کا کام حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا، جب کہ اسے لکھنے کی ذمہ داری حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو سونپی گئی۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ قرآن کے حافظ ، عالم اور کاتب وحی بھی تھے۔ پورا قرآن اسی طرح لکھا گیا اور مختلف ذرائع اور مختلف لوگوں سے مصحف کے طور پر مرتب کیا گیا، اس لحاظ سے قرآن مجید کو پہلی جامع کتابی صورت میں لانے والے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد قرآن کریم کا یہ نسخہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا اور اس کے بعد ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود رہا۔

تیسرا دور (عہد عثمانی ):
علاقے اور جغرافیہ کے لحاظ سے ہر زبان کے مختلف لیجے ہوتے ہیں۔ عربی زبان میں بھی بہت سی بولیاں اور انداز بیان ہیں لیکن حضور اکرم خاتم النبین صلى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے دور میں سات لہجے مشہور تھے۔ آپ خاتم النبین صلی اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے لوگوں کی سہولت کے لیے ان میں سے کسی بھی لہجے میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ جیسے آپ خاتم النبین صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَسَلَّم کا ارشاد پاک ہے:

"اِنَّ القُرْآنُّ أُنزِلَ عَلَىٰ سَبْعَةِِ اَحْرُفِِ فَاقْرَءُوْا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ" (مسند احمد :۱‌/۱۵۱)
ترجمہ: 
" قرآن مجید سات لہجوں میں نازل ہوا ہے، لہذا ان میں سے جو آسان لگے اسے پڑھیں۔"

اس اصول پر پہلے دو خلفأ کے دور تک عمل ہو تا رہا لیکن حضرت عثمان غنی کے دور میں جب اسلامی حکومت دور دراز کے ممالک میں پھیل گئی تو لوگوں میں قرآت کے لہجوں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آذربائیجان اور آرمینیا کے محاذ سے واپس آئے اور مدینہ شریف پہنچے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا: "اے امیر المومنین! امت کو اللہ کی کتاب کے بارے میں یہود و نصاریٰ جیسے اختلاف سے بچائیں۔ اس پر آپ نے خطبہ دیا اور اس کام کی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کیا، پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں مرتب کردہ نسخے کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سے منگواکر ، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبد الرحمن بن حارث بن ہشام ! رضی اللہ عنہم کے حوالے کیا۔ انھیں قرآن مجید لکھنے کا حکم دیا اور جہاں لہجوں میں اختلاف ہو وہاں قریش کا لہجہ اختیار کرنے کی ہدایت دی، کیوں کہ قرآن مجید اسی لہجے میں نازل ہوا ہے۔ اس طرح ۲۵ ہجری کی ابتدا میں مصحف عثمانی تالیف ہوا جس کے سات نسخے تیار کر کے مکہ مکرمہ ، شام، یمن، بحرین، بصرہ اور کو فہ بھیجے گئے اور ایک نسخہ مدینہ منورہ کے لیے رکھا گیا۔ اللہ کے تحفظ کے وعدے کے مطابق آج بھی ہمارے پاس وہی قرآن مجید موجود ہے جو نزول کے وقت موجود تھا۔

سوال نمبر ۳: عقیدہ توحید کو دلائل سے ثابت کیجیے۔
جواب: توحید کے دلائل:
قرآن کریم: توحید کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (۲) لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ (۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ (۴) ۔ (سورة الاخلاص)

ترجمہ: "آپ (صلى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ) کہہ دیجئۓ، وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور کوئی اس کے برابر نہیں ۔"

لَوْ كَانَ فِيھِمَا آلِھَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَأ (سورة الانبيأ :آیت ۔۲۲)

ترجمہ: "اگر آسمان اور زمین کے ایک اللہ کے سوا کئی خدا ہوتے تو ان کا نظام تباہ اور برباد ہو چکا ہوتا۔"

سنت نبوی: اعلان نبوت کے بعد رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّم نے مکے والوں کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی۔ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِہ وَأَصْحَابِہ وَسَلَّمَ نے اہل مکہ کو کوہ صفا پر جمع کیا اور فرمایا:

يَا اَيُّھَا النَّاسُ! قُولُوالَا إِلهَ إِلَّا اللهُ تُفْلِحُوا۔(مسند احمد : ۱۹۰۰۴)
ترجمہ:
"اے انسانو! لا الہ الا اللہ کہہ دو کامیاب ہو جاؤ گے "


سائنس: سائنسی تحقیق کے مطابق زمین اپنے محور پر تقریباً۱۶۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہے۔ اس طرح سورج زمین سے تقریباً ۱۵۲ ملین کلومیٹر دور ہے۔ سورج، چاند، ستارے، سیارے اور زمین اپنے اپنے محور اور مرکز پر ایک خاص ترتیب اور ایک مقر رہ وقت پر گھومتے ہیں۔ صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے درمیان ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں آیا۔ اس طرح کے نظم وضبط اور ساخت سے پتا چلتا ہے کہ ضرور کوئی ہستی اس عظیم الشان کائنات کو چلاتی اور سنبھالتی ہے۔ جس کو ہم اللہ تعالی مانتے ہیں۔

عقل: ہم اللہ رب العزت کی کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو ہمیں خدا کی وحدانیت پر بہت سی فطری دلیلیں ملتی ہیں، مثلاً: صحرا میں اونٹ کے قدموں کے نشان بتاتے ہیں کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے۔ انسانی قدموں کے نشان بتاتے ہیں کہ کوئی انسان گزرا ہے۔ اسی طرح سورج ، چاند، ستارے، رات اور دن کا چکر، پہاڑ، میدان، جنگل، دریا، سمندر، ہوائیں ، بادل، بارش، بدلتے موسم، انسان، حیوانات، دیگر جاندار اور ان کا باترتیب نظام بتاتا ہے کہ کوئی طاقتور ہستی ہے جو اس پورے نظام کو بخوبی چلاتی ہے۔ وہ طاقت والی ہستی اللہ تعالی ہے۔

سوال نمبر ۴: رسالت والے منصب کی خصوصیات کیا ہیں ؟ واضح کریں۔
جواب: رسالت والے منصب کی خصوصیات:
اللہ تعالی کی طرف سے پیغمبر اپنی امت کا نمائندہ ہوتا ہے، جو انسانیت کے لیے نہایت عمدہ اور مثالی خوبیوں والا ہوتا ہے۔ وہ فیاض، بردبار، معصوم، پاکیزه کردار، نرم مزاج، دور اندیش، خیر خواہ، مہربان، سچا اور امانت دار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان نمائندگی کا نام رسالت ہے اور یہ انتخاب صرف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے۔
منصب رسالت کی چنداہم صفات درج ذیل ہیں:
بشریت: جیسا کہ تمام انبیائے کرام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے ہیں اور ان کی اطاعت امت کے تمام افراد پر فرض ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم و رہنمائی کرنے والا بھی انھی میں سے ہو۔بعض لوگوں کا خیال تھا کہ کوئی بھی نبی اور ر سول انسان کیسے ہو سکتا ہے. قرآن مجید نے اس کا جواب کچھ یوں دیا ہے:
ترجمہ: "(اے پیغمبر) کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے کہ اس میں چلتے پھرتے اور رہتے بستے تو ہم ان کے پاس فرشتوں کو پیغمبر بنا کے بھیجتے۔ " (سورة الاسراء آ یت نمبر ۔ ۹۵)

وہیبت: وہیبت کے لغوی معنی عطا کرنا ہے۔ نبوت و رسالت ذاتی عبادات کی کو ششوں اور کمائی سے نہیں ملتی ہے۔ یہ اللہ تعالٰی کی عطا کر دہ ذمے داری ہے ، وہ جس کو چاہیے یہ منصب عطا فرمادے۔ ارشاد پاک ہے :
ترجمہ: "اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنے رسول کو کہاں بھیجے۔" (سورۃ الانعام آیت نمبر - ۱۲۴)

عصمت: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نبی اخلاقی طور پر معصوم ہے، یعنی گناہوں سے پاک ہے۔

وحی: وحی بھی نبوت اور رسالت سے مخصوص ہے۔ نبی کے علاوہ کسی اور انسان پر وحی نازل نہیں ہوتی۔

رسالت محمدی خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِہ وَسلم کی خصوصیات کیا ہیں؟ وضاحت کریں۔
جواب: :حضرت مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ صَلى الله عَلَيْهِ وَعَلى آله وَأَصْحَابه وَسلم کی رسالت کی خصوصیات
حضور کریم خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِيهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّم پانچ اولوا العزم الانبیأ میں سے ایک ہیں۔ آپ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ صَلى الله عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ہیں اور آپ کی شریعت آخری شریعت ہے، قرآن کریم آخری کتاب ہے اور یہ امت محمدی آخری امت ہے۔ رسالت محمدی کی چند خصوصیات یہ ہیں:
آفاقیت: ابتدائی دور کے انبیائے کرام علیہم السلام ایک خاص قوم، مخصوص علاقے یا ایک خاص مدت تک کے لیے بھیجے جاتے تھے ، ان کی شریعت اسی زمانے کی قوم یا وقت تک محدود تھی، لیکن حضور اکرم صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِيهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ تا قیامت ہر دور، ہر امت، ہر نسل اور ہر علاقے کے لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ارشاد پاک ہے.
ترجمہ: "اے نبی کہہ دو کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہو اہوں جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔" (سورۃ الاعراف آیت ۱۵۸)

ابدیت: حضور کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی رسالت قیامت تک ہمیشہ رہنے والی ہے، اس سے پہلے جتنے انبیائے ور سل گزرے ، ان کی شریعت اب منسوخ ہو چکی ہے۔ ایک مومن کے لیے یہ مانتا لازمی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صو اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کو آخری نبی بنا کر بھیجا ہے، ور نہ وہ شخص مومن نہیں رہے گا۔ ارشاد پاک ہے :
ترجمہ: "اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہو گاوہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھائے والوں میں ہو گا۔"  (سورۃ آل عمران آیت ۸۵)


عملیت: رسالت محمدی صلى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِهِ وَسَلَّمَ صرف نظریاتی اور فکری نہیں ہے ، بلکہ حضور کریم صلی اللہ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِم وَاصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل کیا اور پھر اپنی امت کی رہنمائی کی۔ اس طرح خواہ وہ عائلی زندگی ہو یا معاشی، سماجی ہو یا سیاسی زندگی ہو یا روحانی کیفیت، عبادات ، امن اور جنگ، قرابت داری ہو یاصلہ رحمی، مطلب یہ ہے کہ زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے عملی زندگی کی مثال ہمیں دی ہے : ارشاد ہے :
ترجمہ: "بیشک اللہ کے رسول کی پیروی کرنا تمھارے لیے بہتر ہے۔" (سورۃ الاحزاب: ۲۱)

جامعیت: اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام کو جن صفات سے نوازا تھا، حضور کریم صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ میں ان تمام صفات کے جامعیت اور کمالیت کے ساتھ مجسم تھے۔ ان تمام خصوصیات اور خوبیوں کے ساتھ حضور کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی رسالت جامع، کامل اور تمام انسانوں اور جنوں کے لیے ہے۔

ختم نبوت: عربی زبان میں ختم' کا مطلب ہے: مہر لگا کر بند کرنایا انجام کو پہچانا۔ رسالت محمدی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِہ وَسَلَّم کی خصوصیات میں ختم نبوت ایک اہم خصوصیت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور حضرت مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ پر ختم ہوتی ہے۔ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، اور جو کوئی نبوت کا دعوی کرے یا نبوت کے مدعی کی تصدیق کرے، وہ شریعت اور آئین پاکستان کے مطابق مسلمان نہیں رہے گا۔ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے آخری نبی ہونے کی دلیل کو قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاَ أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ط وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (40 - الاحزاب)

ترجمہ:"حضرت محمد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ تمھارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کی مہر یعنی سلسلہ نبوت کو ختم کر دینے والے ہیں، اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔"

جب کہ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا :

أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيِّنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ(جامع ترمذی حدیث : ۴۲۵۲)
ترجمہ: "میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔"

سوال نمبر ۶: عقیدہ آخرت کی وضاحت کیجیے۔
جواب: عقیدہ آخرت کا معنی و مفهوم عربی زبان میں 'آخرت کے معنی 'بعد میں آنے والی چیز کے ہیں۔ اس سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے۔
عقیدہ آخرت: آخرت کا عقیدہ بھی اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے، انسان کی موت کے بعد اس کی روح زندہ رہتی ہے، آخرت کی زندگی میں انسانی روح جسم میں دوبارہ داخل کر کے اسے زندہ کیا جائے گا، پھر تمام انسان حشر کے میدان میں جمع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ سب سے ان کی زندگی کا حساب لے گا، پھر کامیاب لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ناکام لوگوں کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔ جیسا کہ ارشاد پاک ہے:
ترجمہ: " بیشک نیکو کار نعمتوں کی بہشت میں ہوں گے۔ اور بد کردار دوزخ میں۔" (سورۃ انفطار : آیات ۱۳۔۱۴)
موت آتے ہی انسان کا حساب شروع ہو جاتا ہے۔ پھر دوسری دنیا میں صرف نیک اعمال ہی کام آتے ہیں، دنیا وقت ضایع کرنے اور فضول کاموں میں خرچ کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ آزمائش کی جگہ ہے۔ انسان جو کچھ کرے گا اس کا اجر آخرت میں ملے گا۔ اس لیے کہا جاتا ہے:

الدنیا مزرعة الآخرة
(دنیا آخرت کی کھیتی ہے)۔


عقیدہ آخرت کے دلائل: قرآن کریم کی آیات کا ایک بڑا حصہ عقیدہ آخرت کے بارے میں ہے، جس میں آخرت کا تعارف، اس کے مختلف مراحل، مختلف لوگوں کے اعتراضات اور ان کے جوابات بیان کیے گئے ہیں۔ لوگ آخرت کے بارے میں غلط تصورات میں مبتلا تھے۔ اس کے لیے قرآن مجید میں آخرت کی مکمل تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ جبکہ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے آخرت کے عذاب اور حساب کتاب کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے اور امت کو عذاب آخرت سے بچنے کے تدابیر بیان فرمائی ہیں۔ عالم برزخ، جنت اور جہنم کے مختلف مناظر معراج کی۔ رات کو حضور کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کو دکھائے گئے تھے۔ اس لیے ایمان کی شرائط میں یوم الآخرة پر مکمل ایمان اور یقین رکھنا شامل ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

وبالآخرة هم يوقنون (سورۃ البقرہ آیت نمبر ۴)
ترجمہ: " اور وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ "


سوال نمبر ۷: موت کے بعد اہم مراحل کون کون سے ہیں؟
جواب: آخرت کے مراحل اور اہم تصورات: آخرت کا آغاز انسان کی موت سے ہی شروع ہوتا ہے۔ مرنے اور دوبارہ زندہ ہونے کے درمیان کے وقت کو عالم برزخ کہتے ہیں۔ جس میں قبر کے سوالات پوچھے جائیں گے اور پھر عذاب قبر یاراحت قبر کا وقت شروع ہو گا۔ جس دن پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو ساری کائنات فنا ہو جائے گی، اس کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور پھر تمام لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اسے بعث بعد الموت (یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا) کہتے ہیں۔ پھر سب لوگ حساب کے لیے کھڑے ہوں گے ، اس لیے اسے قیامت کہتے ہیں۔ تمام لوگ محشر میں اپنے اعمال پورا کرنے کے بعد یا تو جنت کے حقدار ہوں گے اور وہیں ہمیشہ رہیں گے یا جہنم میں جائیں گے پھر گنہگار اپنے گناہوں کی سزا بھگتے کے بعد جنت کے حقدار ہوں گے ، البتہ مشرکین اور منافقین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

سوال نمبر ۸: عقیدہ آخرت کے انسانی زندگی پر ہونے والے اثرات بیان کیجیے۔
جواب: عقیدہ آخرت کے انسانی زندگی پر اثرات: حساب کتاب کی فکر میں انسان برائی سے بچنے اور نیکی کرنے کی جد و جہد کرتا ہے اور اپنے آپ کو ایک ذمے دار انسان بناتا ہے۔ صبر ، تحمل اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت انسان میں بڑھ جاتی ہے اور وہ اپنے اچھے اعمال کے بدلے پر اعتماد اور مطمئن رہتا ہے۔ سماجی اعتبار سے انسان میں عمل کرنے کی خواہش، نتائج و انجام کی پرواہ کیے بغیر سیدھی راہ پر چلنے کا عزم اسے ترقی کی راہ پر چلنے میں مد د دیتا ہے اور وہ تمام برائیوں سے بیچ کر ابدی زندگی کی تیاری کرتا ہے۔ اس میں بہادری ، صبر و برداشت، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور احساس ذمے داری وغیرہ پیدا ہوتے ہیں، جس سے انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر کامیابی حاصل کرتا ہے۔ عقیدہ آخرت انسانی زندگی کو ایک فرد کی حیثیت سے بہتر سے منظم کرتا ہے جس سے معاشرے میں اجتماعی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ اثرات درج ذیل ہیں:
برائی سے نفرت اور بھلائی کی چاہ: آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے اچھے یا برے تمام اعمال اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ایک دن اس کے سامنے حساب دینا ہے۔ اگر برائیوں سے بچتے ہوئے اچھے کام کرے گا تو اللہ کی خوشنودی اور جنت ملے گی اور اور اگر برائیاں بڑھ جائیں تو اللہ کا غضب اور عذاب ملے گا۔

جرأت اور بہادری: عقیدہ آخرت مومن کو سکھاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور ابدی زندگی آخرت ہے، لہذا ہمیشہ نیکی اور فلاح کی کوشش کرتے ہوئے ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتا ہے۔

صبر اور تحمل: نیکی اور سچائی پر چلنے میں جان جو کھم اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عقیدہ آخرت پر ایمان رکھنے والا ان تمام مصائب کو اللہ تعالی کی طرف سے سمجھ کر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا: آخرت پر یقین رکھنے والا شخص دنیا کے مال و دولت کو آخرت میں کا میابی کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے، دنیا کو اس مال سے مزین کرنے کے بجائے آخرت کو سنوارنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کر کے آخرت میں اس کا اجر حاصل کر سکے۔

احساس ذمے داری: جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے اپنے رب کی طرف سے مقر ر کردہ فرائض، ذمے داریوں اور احکامات کو پورا کرنے کا احساس ہوتا ہے۔

سوال نمبر ۹: نماز کی فضیلت اور اہمیت پر نوٹ تحریر کیجیے۔
جواب: نماز کی اہمیت اور فضیلت: نماز اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے ، جو ہر مسلمان، عاقل و بالغ ، مراد و عورت پر دن اور رات میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ ہجرت سے ایک سال قبل آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کو معراج کے موقعے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت کے لیے پانچ نمازیں بطور تحفہ عنایت کی گئیں۔ قرآن مجید میں اس عبادت کا سب سے زیادہ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورۃ الروم آیت ۳۱)
ترجمہ : "اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ ۔"

حدیث شریف کے مطابق سات سال کی عمر میں نماز شروع کرنے کا حکم ہے اور دس سال کی عمر میں اس کی سختی سے تاکید کی گئی ہے اور والدین کو اولاد پر سختی بھی کرنی چاہیے۔ نماز فرض ہونے کے بعد جان بوجھ کر چھوڑ دینا گناہ کبیرہ ہے۔

نماز کو عربی میں "صلوۃ" کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں " دعا"۔ نماز اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ اسلامی شریعت میں نماز وہ عبادت ہے جو نبی کریم خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے سیکھائے ہوئے مخصوص طریقے سے ادا کی جاتی ہے۔ نماز اسلام کی ایک اہم عبادت ہے ۔ نماز معراج کے موقع پر فرض کی گئی۔ ہر بالغ مسلمان مرد و عورت پر نماز اپنے مقر رہ اوقات پر دن میں پانچ بار ادا کرنا فرض ہے۔ نماز مسلمانوں کو یادہانی کرواتی ہے کہ وہ اللہ تعالی کے بندے ہیں۔ انھیں قرآن وحدیث کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنی ہے۔ انہیں اللہ تعالی کی طرف لوٹ کے جانا ہے اور صرف اُسی سے مد د مانگنی ہے۔ مومنین اور متقی لوگوں کی ایک صفت نماز قائم کرنا بھی ہے کہ نماز اللہ تعالی کی پسندیدہ عبادت ہے جس کا ذکر قرآن میں کئی بار آیا ہے۔ سورۃ البقرۃ آیت ۴۳ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے:

وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّكِعِينَ ( سورة البقرة ۔۴۳)
ترجمہ: " اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرو، رکوع کرنے والوں کے ساتھ ۔"

خَاتِمُ النَّبِیِیِّن حضرت محمدصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے نماز کو مسلمانوں کی معراج اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے۔ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن حضرت محمدصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے بار بار نماز تاکید فرمائی ہے:
"(قیامت کے دن ) بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں باز پرس ہو گی، اگر یہ درست ہوئی تو یقینی کامیاب و کامران رہے گا، اور اگر خراب رہی تو بلا شبہ ناکام و نامر اور ہے گا " (سنن ترندی ۔ ۴۱۳؛ سنن نسائی ۔۴۶۶)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
"رسول الله عالم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی آخری بات (وصال سے پہلے وصیت) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا اور جو تمہاری ملکیت میں ( غلام اور لونڈی ) ہیں ان کے معامات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔" (سنن ابو داؤد ۔ ۵۱۵۲)

نماز چھوڑ دینا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ نماز چھوڑنے والا کفر اور شرک کے قریب ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :
ترجمہ: "اللہ ہی سے ڈرو، نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں میں سے مت ہو جاؤ ۔ " ( سورۃ الروم ۔۳۱)

نبی اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ اللہ نے فرمایا :
"کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا ترک کرنا ہے۔" (سنن ترمذی ۔۲۹۱۸)

حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: " میں نے نبی کریم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ سے پو چھا اللہ تعالی کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا۔ پو چھا کہ پھر کون سا فرمایا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پو چھا پھر کون سا؟ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔" (صحیح بخاری ۔ ۵۹۷۰)
نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بیماری ، سفر کسی حال میں بھی نماز چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے ۔

سوال نمبر ۱۰: نماز کے انفرادی اور اجتماعی فوائد تحریر کیجیے۔
جواب: نماز کے انفرادی اور اجتماعی فوائد : نماز ایک جامع عبادت ہے جس میں انسان کے لیے انفرادی اور اجتماعی فوائد ہیں ۔
نماز کے انفرادی فوائد : انفرادی طور پر نماز مسلمان کو حقیقی رب کے سامنے عاجزی کا درس دیتی ہے۔ یہ اللہ کی خوشنودی اور غیر اللہ ے لا تعلقی کا درس دیتی ہے۔
  • نماز ادا کرنے والا شخص خود مطمئن اور پر اعتماد محسوس کرتا ہے۔
  • نماز پڑھنے سے جسم اور لباس پاکیزہ اور باوقار ہو جاتے ہیں. نماز پڑ ھنے سے انسان پاک وصاف رہتا ہے۔ گندگیوں سے دور رہتا ہے ۔ اس طرح وہ کئی بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔
  • نماز ا یک جسمانی ورزش بھی ہے۔ نماز پڑھے والا چست و صحت مند رہتا ہے۔
  • سائنسی طور پر نماز کے ارکان کو انجام دینا جیسے قیام، رکوع، ، سجدہ بھی جسم کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ رکوع اور سجدہ کرنے سے دماغ میں خون کی روانی بڑھتی ہے اور احساس میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔
  • برائی سے مقابلہ کرنے کے لینے نماز بہترین مشق ہے۔
  • مقر رہ وقت پر پانچ وقت کی نمازیں ادا کرنے سے ہم وقت کی پابندی اور نظم وضبط کے عادی ہو جاتے ہیں۔ وقت کی پابندی اور نظم و ضبط آہستہ آہستہ ہماری زندگی کا حصہ بنتاچلا جاتا ہے۔ وقت کی پابندی اور نظم وضبط ہی قوموں کی ترقی کا راز ہیں۔
  • نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ‌

نماز کے اجتماعی فوائد : نماز معاشرے میں اجتماعیت کا ماحول پیدا کرتی ہے اور وقت کی پابندی کا درس دیتی ہے، خصوصاً باجماعت نماز، جمعہ اور عیدین کی نمازیں آپس میں اتحاد کا درس دیتی ہیں۔ اگر کسی علاقے کے تمام باشندے اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق نماز ادا کریں تو وہ علاقہ تمام برائیوں سے پاک ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر۱۱ : زکوۃ کی اہمیت بیان کیجیے۔
جواب: زکوة کی فضیلت اور اہمیت: زکوۃ اسلام کا ایک اہم رکن اور مالی عبادت ہے، اس کا مقصد معاشرے کے ضرورت مندوں کی مد د کرنا اور مسلمان کے دل سے دنیا کی محبت اور لالچ کو کم کرنا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر نماز کے ساتھ زکوۃ کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً:

وَاَقِيمُوا الصَّلوۃَ وَاٰتُوا الزّکٰوۃَ۔ (سورۃ المزمل: آیت ۔۲۰)
ترجمہ : " نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ "

زکوۃ، صاحب نصاب پر سال میں ایک بار فرض کی گئی ہے اور یہ ایک بہت ہی اجر و ثواب والی عبادت ہے۔ زکوۃ ادا کرنے سے انکار یا کوتاہی کی صورت میں سخت عذاب کی خبر دی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے،
ترجمہ: " اے ایمان والو! جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں درد ناک عذاب کی خبر دے دو۔" (سورۃ التوبہ: آیت ۔ ۳۴)

 حضور کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِيهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّم نے فرمایا: "جو شخص خوشنودی سے اپنے مال میں سے زکوۃ دے گا اسے ایمان کی لذت ملے گی۔" (سنن ابو داؤد : ۱۵۸۰)

قبیلہ قضاعہ کا ایک شخص سید نانبی کریم صلى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِہ وَسَلَّمَ کے پاس آیا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ میں دن میں پانچ وقت نماز پڑھوں گا، رمضان کے روز ہے رکھوں گا، قیام کروں گا اور زکوۃ دوں گا۔ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ:
" جس نے ایسا کیا وہ صدیقین اور شہدأ کے درجے پر ہو گا۔" (مسند احمد ۵۲۲ ‌/ ۳۹)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں زکوۃ سے انکار کرنے والوں سے جہاد کیا۔

سوال نمبر۱۲ : حج کی اہمیت بیان کیجیے۔
جواب: حج کے فضائل و اہمیت: حج ایک عظیم جسمانی اور مالی عبادت ہے، جس کے لیے بڑے اجر و ثواب کی بشارت ہے۔ یہ ایک جامع عبادت ہے جو بدنی اور مالی عبادات کا مجموعہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے

وَلِلهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًاط (سورۃ آل عمران: آیت ۔۹۷)
ترجمہ: " اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے اور اگر کوئی انکار کرےتو اللہ دنیا و جہاں کے تمام لوگوں سے بے نیاز ہے۔ "

جس مسلمان نے خلوص و اخلاص اور تمام آداب کے ساتھ حج ادا کیا تو اس کے لیے گناہوں سے پاک ہونے کا ثواب ہے اور اس کی دعائیں قبول ہوتیں ہیں۔ حضور کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

"مَنْ حَجَّ اللَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقُ رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ اُمُّہٗ" ( صحیح بخاری حدیث ۔ ۱۵۲۱)
ترجمہ: "جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حج کیا اور نفسانی خواہشات کی باتوں سے پر ہیز کیا اور کوئی گناہ نہیں کیا وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے نئے بچے کی طرح ہے۔ یعنی : وہ گناہوں سے پاک ہو گیا۔ "


سوال نمبر ۱۳: حضور کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ بحیثیت رحمتہ للعالمین ہونے پر نوٹ لکھیے۔
جواب: لفظ "رحمت" کے لغوی معنی رحم، شفقت اور مہر کے ہیں۔ "العالمین" عالم کی جمع ہے جس کے معنی تمام جہان ہیں۔ رحمتہ للعالمین کا مطلب ہے کہ حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صلی اللہ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے اپنی طرف سے دنیا کی کسی مخلوق کو تکلیف نہ پہنچائی بلکہ ان کے جان ومال کی پاسداری فرمائی تاکہ کسی کو بھی ان کے ساتھ زیادتی کرنے کا موقعہ نہ ملے۔

مخلوقات میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے آخری نبی سید نا حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ ہیں۔ جن کے لیے قرآن مجید فرماتا ہے :

وَمَا ارُ سَلْنٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ۔ (سورۃ الانبیاء آیت : ۱۰۷)
ترجمہ : "ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"

حضور کریم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نہ صرف اپنے اور قریبی لوگوں کے لیے رحمت تھے ، بلکہ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی رحمت سے اپنے پرائے سب بہرہ ور ہوتے تھے ۔ حضور کریم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی رحمت عام تو تھی ہی لیکن بچے ، عورتیں ، غلام، یتیم، غریب، بوڑھے، عام لوگ اور جانور وغیرہ پر آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِهِ وسلم کی رحمت بہت زیادہ تھی۔

بچوں پر شفقت اور رحمت: حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صلى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ بچوں سے بے پناہ شفقت ، پیار اور محبت فرماتے تھے اور اپنی گود میں بٹھا کر کھلایا کرتے تھے۔ بچوں کے ساتھ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کا رویہ ہمیشہ رحمت اور شفقت والا تھا۔ بلکہ اگر کوئی بات سمجھانی ہوتی تو نرمی اور شفقت سے ان کی تربیت کرتے۔ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ بچوں کے حقوق کی پامالی کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
"میں نے دس سال تک حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی خدمت کی لیکن آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِهِ وَسَلَّم نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے ایساکیوں کیا یا ایسا کیوں نہیں کیا؟ اور کبھی سختی سے مخاطب نہیں ہوئے۔" ( صحیح بخاری : ۶۰۳۸)

عورتوں کے لیے رحمت: اسلام سے پہلے پوری دنیا اور بالخصوص عرب کی عورتیں بہت زیادہ مظلوم تھیں۔ انھیں مال و دولت سمجھا جاتا تھا۔ ان کے رشتے دار ان کی پیدائش پر اس قدر ناراض ہوتے تھے کہ کبھی کبھی انھیں زندہ دفن کر دیتے تھے اور انھیں معاشرے میں بہت ادنی درجہ دیا جاتا تھا۔ حضور کریم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ جب اسلام کا پیغام لائے تو ہر عورت کو ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کا درجہ دیا اور ان کے حقوق کا تعین کیا۔ انھیں اپنے شوہر، بھائی، باپ اور اولاد کے لیے باعث عزت بنایا اور ان کی حفاظت اور کفالت کی ذمے داری ان پر ڈال دی اور انھیں مال و جائد اور رکھنے اور باوقار زندگی گزارنے کا موقع دیا گیا۔ وہ اپنے والدین کی وراثت میں سے حصہ لیں گی اور دوسرے بھی ان کے وارث بن جائیں گے۔

غلاموں کے لیے رحمت: حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے اپنی زندگی مبارک میں غلاموں اور کنیزوں کو باوقار اور خود مختار زندگی گزارنے کے حقوق کی بنیا د ر کھی اور ہمیشہ اس کی تاکید فرمائی۔ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے غلام یا کنیز کے آزاد کرنے کو عبادت قرار دیا تا کہ زیادہ سے زیادہ غلام آزاد ہو سکیں۔ انھیں کپڑے ، کھانے پینے اور اچھی تعلیم و تربیت کی تلقین فرمائی، یہی وجہ تھی کہ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی شفقت و محبت کے نتیجے میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آزادی کو قربان کر دیا اور سیدنا حضرت مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی غلامی پر فخر محسوس کیا اور اپنے والدین کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر کے آپ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِہ وَسَلَّم کی خدمت میں رہنے کو ترجیح دی۔

یتیموں اور مسکینوں کے لیے رحمت: حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ معاشرے کے کمزور اور نادار لوگوں کو بھر پور انداز میں تسلی دیتے تھے۔ اور ہر ممکن طریقے سے ان کی مد د کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان میں مسکین، غریب اور یتیم بھی شامل ہیں۔ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے یتیموں کے بارے میں فرمایا:

" أَنَّا وَكَافِلُ الْیَتِیْمِ فِي الْجَنَّةِ ھَکَذَا “
ترجمہ : " میں اور یتیم بچے کی پرورش کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں ( در میانی انگلی اور شہادت کی انگلی ) کی طرح اکٹھے ہوں گے۔"

آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِہ وَسَلَّمَ نے ہمیشہ غریبوں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کیا اور عملی طور پر اس کا ثبوت دیا۔

بوڑھے اور عام انسانوں کے لیے رحمت: آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِہ وَسَلَّمَ کے اعلان نبوت سے پہلے عام لوگوں کا احترام بالکل نہیں کیا جاتا تھا۔ معمولی بات پر کسی کو قتل کرنا ان کے لیے بہت آسان تھا۔ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے ہر انسان کو اپنی جان، مال اور ناموس کے تحفظ اور عزت کا حق دیا۔ رشتے داروں، عزیز و اقارب، عورتوں، مردوں، بچوں اور کمزوروں کے حقوق کا تعین کیا۔ حضور کریم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صلی اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:
"جو ہمارے بڑوں اور بزرگوں کا احترام نہیں کرتا اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔" (سنن ابی داؤد: ۴۹۴۳)
اس طرح آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کا فرمان مبارک ہے:
  "کسی مومن سے بد کلامی کرنا گناہ ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔" (صحیح البخاری: ۴۸)

جانوروں کے لیے رحمت: زمین پر چلنے پھرنے والے جانوروں اور پرندوں کو زمین پر رہنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا انسانوں کا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کے لیے پیدا کی ہیں، اس لیے ضرورت کے وقت ان سے خوراک، سواری، بوجھ اٹھانے اور دیگر ضروریات کے لیے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن ان کی حق تلفی اور انھیں نقصان سے بچانے کے لیے پورا انتظام کرنا چاہیے۔ کیوں کہ پھل، پھول، بیل بوٹے، درخت اور پودے نہ صرف اس زمین کی زینت ہیں بلکہ انسانوں کی زندگی بھی ان سے وابستہ ہے۔ اس لیے آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَسَلَّم نے غیر آباد زمین کو آباد کرنے، درختوں اور فصلوں کو بڑھانے کی ترغیب دی ہے اور اس عمل کو صدقہ جاریہ شمار فرمایا ہے۔ جو شخص پھل والے درخت یا اناج لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی پرندہ یا جانور یا انسان کھاتا ہے تو اس شخص کے لیے ثواب لکھا جائے گا۔

حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَاصْحَابِہ وَسَلَّمَ نے نہ صرف جانوروں کی اچھی خوراک اور ان کی دیکھ بھال کا اچھا انتظام کرنے کا فرمایا بلکہ ان کے ساتھ شفقت، نگہداشت اور بھلائی کی بھی تلقین فرمائی (سنن ابی داؤد: ۲۵۴۸)۔ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے جانوروں کو آپس میں لڑوانے (سنن ابی داؤد : ۲۵۶۲)، انھیں نشانی بازی کے لیے نشانہ بنانے (سنن دارمی: ۲۰۱۶)، اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر وزن رکھنے سے منع فرمایا۔ (کتاب الزہد از ابن المبارک، جلد: ۹، صفحہ:۴۱۴)

سوال نمبر ۱۴: حقوق العباد کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی فوائد لکھیے؟
جواب: سیاسی فوائد: حقوق العباد کی ادائیگی سے سیاسی طور پر مختلف قومیں ، ممالک اور ریاستیں ایک دوسرے کے قریب ہو جاتی ہیں جس سے آپس میں اتحاد واتفاق قائم ہو تا ہے۔ مسلمان ممالک اور ریاستیں اسلام دشمن عناصر کی بری نیت اور بری نظروں سے محفوظ ہو جاتی ہیں اور اپنے اندرونی معاملات میں آزا د ہو جاتی ہیں۔

معاشی فوائد: ملک، قوم اور ریاست مالی اور معاشی طور پر مستحکم ہوتی ہے۔ ملک میں ترقی اور خوشحالی آتی ہے۔ ملک میں کوئی غریب و مسکین نہیں رہتا۔ تعلیم و صحت کے میدان میں ترقی ہوتی ہے۔ روز گار کے بہتر مواقع حاصل ہوتے ہیں۔

معاشرتی فوائد: حقوق کی ادائیگی سے معاشرے میں پر امن ماحول پیدا ہو تا ہے تعلقات میں بہتری آتی ہے۔ حق داروں کو حقوق ملنے سے نہ صرف ان کی حاجات اور مطالبات پورے ہوتے ہیں بلکہ فریقین کو سکون اور خوشی بھی ملتی ہے اور اللہ تعالی سے بہتر اجر کی امید بھی ہوتی ہے۔ عدل اور انصاف قائم ہوتا ہے جس سے عوام الناس اطمینان وسکون حاصل ہوتا ہے۔

سوال نمبر ۱۵: اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں ؟ وضاحت کیجیے۔
اللہ رب العزت نے زمین والوں پر احسان کرتے ہوئے حضرت مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔ جس نے ان کی آنکھوں سے اندھے پن اور جہالت کی پٹیاں اتار دیں اور انھیں سمجھایا کہ وہ عورتیں اور بچے بھی انسان ہیں اور انسانوں کی طرح مخلوقات میں اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ ماں، بیٹی ، بہن اور خاتون خانہ کی حیثیت سے آپ کی عزت و تکریم کی وجہ ہیں۔ اگر چہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو نگہداشت اور انتظام کے معاملے میں عورتوں پر فوقیت دی ہے، پھر بھی اسلام عورتوں کی برابری کی تعلیم دیتا ہے۔


عورتوں کے حقوق اور ان کی اہمیت: اسلام کے آنے کے ساتھ ہی خواتین کو نہ صرف ظلم و تشد د سے محفوظ رکھا گیا بلکہ ان کی تعلیم و تربیت، شادی و غم ، گھر اور اولاد، اعمال، ذمے داریاں اور ہر قسم کے حقوق متعین ہو گئے۔ جس کی تفصیل قرآن اور سنت نبوی خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ میں موجود ہے۔
عورتوں کے حقوق کے لیے قرآن مجید ہدایت کرتا ہے:
ترجمہ:”عورتوں کا حق مردوں پر ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق مردوں کا حق عورتوں پر ہے۔ “ (سورۃ البقرہ آیت ۔ ۲۲۸)

اسلام عورتوں کو وہ تمام حقوق دیتا ہے جو ان کی فطرت مانگتی ہے۔ اسے عمر بھر اپنے والد، بھائی، شوہر اور بچوں کی حفاظت میں رکھا گیا ہے۔ اگر وہ گھر یلو اور خاندانی ذمے داریوں کا خیال رکھتی ہے تو اس کی کفالت بھی ان افراد کی ذمے داری ہے البتہ اسے ضرورت پڑنے پر اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے کمانے اور کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ گھر یلو اور ذاتی ضروریات کے علاوہ مختلف شعبوں میں ان کی رائے کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔

حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی سیرت طیبہ ہمیں عائلی (خاندانی) زندگی کے بارے میں سکھاتی ہے، گھر والوں سے اچھی بات کرنا، ان کی رائے اور نصیحت کو اہمیت دینا، گھر کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹانا ، الفت کا اظہار کرنا، انھیں تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنا اور ان کی حاجت اور تکالیف میں شریک ہو نا سب کام اجر و ثواب ہیں۔ چنانچہ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّم نے فرمایا:
" تم میں سے وہ لوگ بہتر ہیں جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہوں اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہوں۔" (ترمذی: ۳۸۹۵)

سوال نمبر ۱۶: باہمی اتحاد کا مفہوم اور اہمیت بیان کیجیے۔
جواب: مفہوم: لفظ "باہمي" کے معنی ہیں: مشترکہ اور اجتماعی۔ جب کہ "اتحاد"، متحد ، ایکا اور اتفاق کو کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے باہمی اتحاد کا مطلب ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اپنی مشکلات، مصائب اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کی بات سنیں، اسلام کی متفقہ رائے کو مشترکہ تشریح میں پیش کریں اور مستقبل کے حالات کو بہتر طریقے سے سنبھال سکیں۔

اہمیت: اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت اور ان کے مزاج مختلف بنائے ہیں۔ ہر انسان کے خیالات، رائے، کردار، عادات اور طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ انسان اپنے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے آزاد اور خود مختار ہے۔ البتہ جب معاملہ کسی دوسرے شخص یا مشترکہ مفاد کا ہو تو کسی کی ذاتی اور واحد رائے کارگر نہیں ہوتی، بلکہ مشترکہ رائے کو ترجیح دی جاتی ہے، ورنہ انتشار اور تصادم کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

اسلام میں باہمی تعاون، ہمدردی، مشاورت اور باہمی اتحاد پر زور دیا گیا ہے، کیوں کہ ان چیزوں سے عزت، وقار اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مؤمنوں کو اتحاد کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہے:
ترجمہ: " اور سب مل کر اللہ کی ہدایت کی رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور فرقے فرقے نہ ہو جانا۔ " (سورۃ آل عمران آیت ۔ ۱۰۳)
حضور اکرم خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِيهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّم نے فرمایا : "مومن، مومن کے لیے دیوار کی مانند ہے، آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملاکر فرمایا، اس طرح ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔" (بخاری: ۴۸۱، مسلم: ۲۵۸۵)

رسول اللہ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِيهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّم نے فرمایا :
"مسلمانوں کی ایک دوسرے سے محبت، ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کی طرف التفات و تعاون کی مثال ایک جسم کی طرح ہے ، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی سارا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے سے (سبہ اعضأ کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر ) اس کا ساتھ دیتا ہے۔" (صحیح مسلم ۔ ۶۵۸۶)

مسلمانوں سے متعلق تمام جماعتوں، اداروں اور ریاستوں اور ممالک کو مشترکہ مسائل پر متفق ہونے میں پیش پیش رہنا چاہیے۔ خطبہ حجتہ الوداع کی روشنی میں رنگ و نسل اور جنس کی تفریق کے بغیر تقویٰ سچائی اور دیانت کو اپنانا چاہیے۔ نیکی اور تقویٰ کے معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون اور اتحاد کرنا چاہیے اور برائی اور گناہ میں کبھی تعاون اور اتفاق نہیں کرنا چاہیے۔ اتحاد و اتفاق کا ثمر اور نتیجہ اس کے نفاذ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے عملی طور پر اتحاد اور مسلمانوں کو اکٹھا ہونے کی ترغیب دینی چاہیے اور اس میں بھر پور شرکت کرنی چاہیے۔

سوال نمبر ۱۷: حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اور دینی خدمات کے بارے میں تفصیلی مضمون لکھیے۔
جواب: حسب و نسب: حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ سادات خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا نام جعفر ، کنیت ابو عبد اللہ اور لقب صادق ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد کا نام محمد ہے اور باقر کے لقب سے مشہور ہیں جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں۔ اس اعتبار سے حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پر پوتے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں۔

تعلیم و تربیت: حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ ۱۷ ربیع الاول سن ۸۳ ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تعلیم کا آغاز اپنے والد حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے کیا۔ چودہ سال تک اپنے دادا حضرت امام علی زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت سے فیض حاصل کرتے رہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ مشہور فقیہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ میں شامل ہیں۔ ایک دفعہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ آپ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے ؟ جواب میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ " میں نے سید نا حضرت جعفر بن محمد رحمتہ اللہ علیہ سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔"

اخلاق اوصاف اور فضائل: حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ عبادات، زہد و تقویٰ اور اخلاق میں بلند مرتبے پر فائز ہیں۔ حضرت مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ حضرت جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کو تین حالتوں میں دیکھا: یا تو وہ روزے میں ہوتے یا نفل اور قیام میں، یا کثرت سے ذکر میں ۔ ان سے زیادہ فضیات، علم ، عمل اور تقویٰ میں نہ کسی کو دیکھا، نہ کسی کو سنا اور نہ ایسی صاحب فضیلت ہستی کسی کے ذہن میں ہو سکتی ہے۔ صدقہ و خیرات کے ذریعے لوگوں کو اس قدر نوازتے تھے کہ اہل و عیال کے لیے بھی باقی نہ بچتا تھا۔ سخاوت میں حضور اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کی سنت کی پیروی کرتے تھے۔ اپنی حالتِ غربت کی بھی پروانہ کی۔ سیدنا حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ حق بات کہنے سے کبھی نہیں کتراتے تھے۔ آپ حمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ دین کے معاملات میں لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہیے کیوں کہ اس سے بغض، عداوت، دشمنی اور نفاق جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں۔

خدمات: حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ نے روایت حدیث ، درس و تدریس، سیاست، سفارت کے علاوہ لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھی عظیم خدمات انجام دیں ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی میں مختلف دینی علوم مثلاً: تفسیر، حدیث، فقہ، دینیات، طب، فلسفہ اور علم نجوم کا بہت چرچا تھا، ساتھ ساتھ فکر و نظریے کے میدان میں مختلف اعتبار سے قرآن و سنت کے خلاف سازشیں بھی ہورہیں تھیں۔ اس وقت حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ تعلیم اور فکر کے لحاظ سے لوگوں کو حق پر لانے کے لیے جد وجہد کرتے رہے۔ اس دور کے بڑے علما جیسے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، واصل بن عطا رحمۃ اللہ علیہ اور امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ جیسی ہستیاں آپ سے علم کی سعادت حاصل کرتی رہیں۔ طب اور سائنس کے عظیم اسکالر جابر بن حیان بھی ان کے شاگردوں میں سے تھے جنھوں نے بے شمار ایجادات سے عالم اسلام کا نام روشن کیا۔

حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ نے بے شمار علمی اور دینی خدمات کے ساتھ ساتھ سیاسی فرائض بھی انجام دیے۔ وہ حکمرانوں کو ان کی بدعنوانی، نا انصافی اور غیر اسلامی سرگرمیوں پر تنبیہ کرتے اور عوام کی بہتری کے لیے کوشن کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ علمی اور فکری جد و جہد میں مصروف رہتے تھے مثلاً: علم حدیث کو روایت کرنا، اس کی ترویج کرنا اور مسلمانوں کی عقیدۂ فکر کے حوالے سے شک و شہبات کے خطرات سے حفاظت کرنا، ان تمام خوبیوں کے علاوہ ان کا خاندانی حسب ونسب بھی لوگوں میں رطبت اور مقبولیت کا سبب بنا۔ ایک قول کے مطابق یہ سب باتیں خلیفہ وقت کو خطرناک لگی جس نے امام صاحب کو زہر دلا کر شہید کر وا دیا۔ حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کی سب سے اہم تصنیف فقہ جعفریہ کی مشہور کتاب "شرائع الاسلام" ہے۔

سوال نمبر ۱۸: حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اور خدمات پر تفصیلی نوٹ لکھیے۔
جواب: ولادت اور حسب و نسب: حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نہایت بلند شان اور مرتبے والی شخصیت ہیں۔ انھیں تابعین ہونے کا شرف نصیب ہوا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فقہ اسلامی کے پہلے مدون بھی تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کا پورا نام نعمان بن ثابت ہے اور کنیت ابو حنیفہ تھی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے آباو اجداد فارس کے رہنے والے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ۸۰ ہجری بمطابق ۶۹۹ء میں کوفہ ، عراق میں ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا خاندان تاجر تھا اور کپڑے کی تجارت میں مشہور تھا۔ کوفہ اس وقت علم کا مرکز تھا اور اس وقت بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حیات تھے۔
تعلیم و تربیت: حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بچپن ہی میں قرآن پاک حفظ کیا، جب کہ تجوید کا علم امام عاصم کوفی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ ایک مرتبہ ان کی ملاقات ایک عظیمہ محدث امام عامر شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی۔ جنھوں نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو تعلم جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ ان کی نصیحت کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بازار جانا ترک کر دیا اور اپنا وقت حصول علم میں صرف کرنے لگے۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ تقریباً ۱۸ سال تک امام حماد بن ابی سلیمان رحمۃ اللہ علیہ سے فیض حاصل کرتے ، یہاں تک کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ان کے بڑے بڑے شاگردوں میں ہونے لگا۔ فقہ حنفی کا زیادہ مدار امام حماد بن ابی سلیمان رحمتہ اللہ ہے علیہ کے رائے پر مبنی ہے۔ آپ نے سب سے پہلے کوفہ میں علم حاصل کیا جو اس وقت ایک بڑا علمی مرکز تھا اور اس کے بعد حرمین شریفین اور آخر میں بصرہ سے بھی علم حاصل کیا۔

اخلاق اور اوصاف: حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ علم ، عمل اور اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ آپ بہت ذہین اور قوی حافظے والے، بردبار، فیاض، عبادت گزار اور نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ صاحب تقویٰ اور حکمت تھے۔

علمی خدمات: امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اجتہادی مسائل اور طریقے بارہ سو سال سے عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں اور کئی بڑے بڑے اسلامی ممالک میں قوانین اور مسائل آپ کے مسلک کے مطابق رائج ہیں۔

کوفے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے تھے۔ حضرت علقمہ بن قیس کوفی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت اسود بن یزید کوفی رحمۃ اللہ علیہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگرد تھے۔ حضرت علقمہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت اسود بن یزید رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد حضرت ابراہیم نخعی کوفی رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مسند پر بیٹھے اور علم فقہ کو وسعت دی۔ انھیں فقیہ العراق‘ کا لقب ملا۔ حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں فقہ کا غیر مرتب شدہ مواد جمع کیا گیا تھا، جسے آپ کے خاص شاگر د حضرت حماد کو فی رحمتہ اللہ علیہ نے محفوظ کیا تھا، جو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے شاگردوں امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن الشیبانی اور امام زفر کو مرتب شکل میں دیا، جسے انہوں باقاعدہ کتابوں کی شکل میں پیش کیا۔ یہ کتابیں آج بھی موجود ہیں۔ ان کے شاگردوں نے امام صاحب سے لی ہوئی احادیث کو ”حدثنا“ اور ”اخبر نا“ کے الفاظ سے تحریر کیا ہے۔ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی اس علمی میراث کا نام کتاب الآ ثار ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس نے بعد کے محدثین کے لیے فقہی درجہ بندی اور ترتیب کے رہنما اصول فراہم کیے ہیں۔ امام صاحب کے مشہور شاگرد امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتابیں المبسوظ، 'جامع صغیز ، 'جامع كبير ،الزيادات ، السیر الصغير ، السیر کبیر بھی فقہ حنفی کے اہم ماخذ ہیں۔

وفات: عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملک کا قاضی القضاۃ بنے کو کہا۔ لیکن آپ رحمۃ اللہ علیہ نے انکار کر دیا ۔ اس انکار کی وجہ سے انھیں ۱۴۶ھ کے قریب قید کر دیا گیا۔ لیکن جیل میں بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم جاری رہی اور حضرت امام محمد الشیبانی رحمتہ اللہ علیہ جیسے محدث وفقیہ جیل میں بھی آپ سے علم حاصل کرتے رہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات تقریباً ۱۵۰ ہجری میں ہوئی۔ تقریباً ۵۰،۰۰۰لوگوں نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کو بغداد کے خضران قبرستان میں سپر د خاک کیا۔ تدفین کے بعد بھی ۲۰ دن تک آپ کی قبر کے قریب نماز جنازہ کا سلسلہ جاری رہا۔

سوال نمبر ۱۹: حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی اور دینی خدمات کے بارے میں تفصیلی نوٹ لکھیے۔
جواب: تعارف: حضرت امام مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ ،حجاز ( مدینہ منورہ) میں اکابرین اسلام اور حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے فقہ پر عمل کرنے والوں کو مالکی کہا جاتا ہے۔ فقہ مالکی کے پیروکار شمالی افریقہ، کویت، مصر، سوڈان، قطر، بحرین اور تیونس وغیرہ میں موجود ہیں۔

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ۹۳ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت ابو عبد اللہ اور لقب امام دار الھجرہ ہے۔ وہ علمأ میں امام مالک اور شیخ الاسلام کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار فقہ کے معتبر علمأ میں ہوتا ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نو سال تک امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے شاگر در ہے جب کہ وہ خود بھی اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے ، جنھوں نے فرمایا کہ : "علمأ میں مالک بن انس رحمتہ اللہ علیہ ایک چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہیں۔“

تعلیم و تربیت: امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے چھ سو اساتذہ سے حدیث و فقہ کا علم حاصل کیا جن میں سے تین سو تابعین ہیں۔ آپ کے پہلے استا در بیع بن ابی عبد الرحمن الرائی ہیں اور پھر انہوں نے ابو بکر بن عبد اللہ بن ہر مز سے تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں امام ابن شہاب زہری اور چھ سو دیگر اساتذہ شامل ہیں۔ ان میں نافع مولی بن عمر، ابوالزناد عبد اللہ بن زکوان، عبد الرحمن بن قاسم ، ایوب سختیانی اور ثور بن زید الدیلی رحمۃ اللہ علیہہ وغیرہ زیادہ مشہور ہیں، آپ کے تمام اساتذہ مدنی ہیں۔

اخلاق و اوصاف: آپ رحمتہ اللہ علیہ نہایت دیانتدار، اصول پسند اور بامروت انسان تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو جو تحفہ یا ہدیہ ملتا تو اسے لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حق کے معاملے میں کسی سزا یا قید سے نہیں ڈرتے تھے۔

حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ کے نام مبارک کا اس قدر ادب کرتے تھے کہ آپ خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِہ وَسَلَّم کا نام لبوں پر آتے ہی امام صاحب کی چہرے کا رنگ ہی بدل جاتا تھا۔قرآن کریم کے بعد امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے حدیث کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ صحیح حدیث سے مسائل کا حل نکالتے تھے۔ جس حدیث پر اہل مدینہ عمل کرتے تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ اسے معتبر سمجھتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشادات سے رہنمائی لیتے تھے۔

علمی خدمات: حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے سترہ سال کی عمر میں مدینہ شریف میں درس و تدریس کا کام سنبھالا۔ بڑی شائستگی اور ادب سے حدیث پڑھاتے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نہانے کے بعد صاف ستھرے کپڑے پہن کر ، عطر لگا کر حدیث کا درس دیتے تھے۔ مدینہ منورہ میں رہنے کی وجہ سے آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے دور کے سب سے بڑے عالم حدیث تھے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حدیث کی ایک کتاب لکھی جو موطا امام مالک کے نام سے مشہور ہے۔ آپ عشق رسول خَاتِمُ النَّبِیِیِّن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ اور اہل بیت کی محبت سے اس قدر سرشار تھے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مدینہ شریف میں پوری زندگی ننگے پاؤں گزاری۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرنے والوں کی تعداد ۱۳۰۰ بتائی جاتی ہے۔ امام محمد ، امام شافعی اور امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہم بھی آپ کے شاگردوں میں شامل تھے۔

وفات: حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ۱۷۹ھ میں چھیاسی سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

GO TO TOP



No comments:

Post a Comment