Search This Blog
Showing posts with label Islamiat - X - Notes. Show all posts
Showing posts with label Islamiat - X - Notes. Show all posts
Friday, 18 February 2022
Tuesday, 16 November 2021
Baab Awal : Quran Majeed - Hissa (ب - 3) - Mukhtasar Ayaat Ka Tarjuma o Tashree - Islamiat (اسلامیات) Compulsory - For Class X (New Book) - سوال و جواب
GO TO INDEX
باب اول : قرآن مجید
حصہ (ب - ۳) : منتخب آیات کا ترجمہ و تشریح
سورة النساء: (آیت 29، 36) سورۃ المائدۂ: (آیت 32، 33، 34)
مختصر سوال و جواب
درسی کتاب کی مشق کا حل
(الف) مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تحریر کریں:
سوال نمبر ۱: مندرجہ ذیل میں سے کسی بھی دو آیات کا ترجم تحریر کریں۔
جواب: ترجمہ
سوال نمبر ۲: ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل کیوں قرار دیا گیا ہے؟۔
جواب: شریعت اسلامیہ میں جتنی تاکید کے ساتھ انسان کے قتل کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے، عصر حاضر میں اس کی اتنی ہی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بلکہ بعض علماء نے سورۃ النساء آیت نمبر 93 کی روشنی میں فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے۔
اگر چہ جمہور علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب تو ضرور ہے مگر وہ اس جرم کی وجہ سے کا فرنہیں ہوتا ہے اور ایک طویل عرصہ تک جہنم میں دردناک عذاب کی سزا پا کر آخر کار وہ جہنم سے نکل جائے گا کیونکہ مذکورہ آیت میں (خَالِدًا فِيْھَا) سے مراد ایک طویل مدت ہے۔ نیز قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والے کی آخرت میں بظاہر معافی نہیں ہے اور اسے اپنے جرم کی سزا آخرت میں ضرور ملے گی اگر چہ مقتول کے ورثاء قاتل سے قصاص نہ لے کر دیت وصول کر لیں یا اسے معاف کر دیں۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو تمام انسانوں کا قتل قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جوکوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (سورۃ المائدہ ۳۲) غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا کیونکہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے، کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے، جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے ، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہو گا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہو جائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، لہذ اقتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔
حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے عظیم خطبہ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کا خون نہ بہایا جائے، چنانچہ ارشاد فرمایا:
"تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لئے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسے تمہارے اس مہینے (ذی الحجہ ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ تم سب اپنے پروردگار سے جا کر ملو گے، پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (صحیح بخاری باب حجة الوداع، صحیح مسلم باب القسامة)
یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گمراہوں کا کام ہے نیز ایک دوسرے کو کا فر یا گمراہ کہہ کر قتل نہ کرنا۔
سوال نمبر 3: قرآن کریم میں امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے لیے کون سی سزائیں مقرر کی ہیں؟
جواب: قرآن کریم میں امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے لیے چار قسم کی سزائیں مقرر کی ہیں۔
سوال نمبر ۱: مندرجہ ذیل میں سے کسی بھی دو آیات کا ترجم تحریر کریں۔
جواب: ترجمہ
آیت نمبر 1 بمعہ ترجمہ
آیت نمبر 2 بمعہ ترجمہ
آیت نمبر 3 بمعہ ترجمہ
سوال نمبر ۲: ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل کیوں قرار دیا گیا ہے؟۔
جواب: شریعت اسلامیہ میں جتنی تاکید کے ساتھ انسان کے قتل کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے، عصر حاضر میں اس کی اتنی ہی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بلکہ بعض علماء نے سورۃ النساء آیت نمبر 93 کی روشنی میں فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے۔
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَاَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ۔(سورة النسآء ۔آیت ۹۳)
ترجمہ:۔ "اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔"اگر چہ جمہور علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب تو ضرور ہے مگر وہ اس جرم کی وجہ سے کا فرنہیں ہوتا ہے اور ایک طویل عرصہ تک جہنم میں دردناک عذاب کی سزا پا کر آخر کار وہ جہنم سے نکل جائے گا کیونکہ مذکورہ آیت میں (خَالِدًا فِيْھَا) سے مراد ایک طویل مدت ہے۔ نیز قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والے کی آخرت میں بظاہر معافی نہیں ہے اور اسے اپنے جرم کی سزا آخرت میں ضرور ملے گی اگر چہ مقتول کے ورثاء قاتل سے قصاص نہ لے کر دیت وصول کر لیں یا اسے معاف کر دیں۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو تمام انسانوں کا قتل قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جوکوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (سورۃ المائدہ ۳۲) غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا کیونکہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے، کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے، جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے ، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہو گا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہو جائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، لہذ اقتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔
حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے عظیم خطبہ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کا خون نہ بہایا جائے، چنانچہ ارشاد فرمایا:
"تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لئے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسے تمہارے اس مہینے (ذی الحجہ ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ تم سب اپنے پروردگار سے جا کر ملو گے، پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (صحیح بخاری باب حجة الوداع، صحیح مسلم باب القسامة)
یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گمراہوں کا کام ہے نیز ایک دوسرے کو کا فر یا گمراہ کہہ کر قتل نہ کرنا۔
سوال نمبر 3: قرآن کریم میں امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے لیے کون سی سزائیں مقرر کی ہیں؟
جواب: قرآن کریم میں امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے لیے چار قسم کی سزائیں مقرر کی ہیں۔
- بری طرح قتل کر دیۓ جائیں۔ (جرم: ڈاکہ ڈالہ مال نہ لے سکا اور آدمی قتل کیا)
- سولی چڑھا دیۓ جائیں۔ (جرم: مال بھی لیا اور قتل بھی کیا۔ اس نے دو جرم کۓ ہیں اسلۓ پہلے اسکو سولی پر لٹکایا جاۓ پھر نیزے مار مار کر اسکو ہلاک کردیا جاۓ۔)
- ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیۓ جائیں۔ (جرم: مال لیا اور قتل نہ کیا۔ "من خلاف" سے مراد ہے کہ اگر دائیاں ہاتھ کاٹا ہے تو بایاں پیر کاٹا جاۓ اور اگر بایاں ہاتھ ہے تو دائیاں پیر کاٹا جاۓ.)
- جلا وطن (ملک سے نکال) دیۓ جائیں۔ (جرم: نہ مال لیا اور نہ قتل کیا۔ "ینفوا من الارض" کا مطلب جلا وطن ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اس سے قید مراد ہے۔)
Wednesday, 10 November 2021
Islamiat (اسلامیات) For Class IX -New - Baab Awal: Mukhtasar Ayaat Ka Tarjuma o Tashree- Ayat No.10 - Surah-Al-Nisa Ayat 10 (ترجمہ و تشریح اور الفاظ معنی )
GO TO INDEX
باب اول : قرآن مجید
(ب) منتخب آیات کا ترجمہ و تشریح حصہ (2)
(سورة النساء: آیت 10) آیت نمبر 10
ترجمہ و تشریح اور الفاظ معنی
سورة النساء کا تعارف:
سورة النساء مدنی سورۃ ہے۔ اس میں ایک سو چھہتر (176) آیات اور 24 رکوع ہیں۔ یہ سورۃ تین پاروں (لَنْ تَنَالُوا، وَالْمُحْصَنَاتُ، لَا اللَّهُ يُحِبُّ) پر مشتمل ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے یہ قرآن پاک کی چوتھی سورۃ ہے۔ نساء کے معنی ہیں "عورتیں"- اس سورۃ میں عورتوں کے بہت سے اہم مسائل کا تذکرہ ہے اسلۓ اسکو سورۃ النساء کہا جاتا ہے۔
آیت بمعہ ترجمہ
لفظی معنی و تشریح
Tuesday, 7 January 2020
Monday, 6 January 2020
Islamiat اسلامیات - For Class IX - Surah E AnFaal - سورۃ الانفال - مختصر سوال و جواب
Go To Index
سورۃ الانفال
مختصر سوال و جواب
آئیں گے۔ اب اس تناسب پر جہاد ضروری اور اے ےف کم پر غیر ضروری ہے اور ساتھ ہی اللہ تعالی نے مومنوں کو یہ خوشخبری بھی سنادی کہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال رہے گی۔
مہاجرین اولین: اے آیت مبارکہ میں ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کا ذکر ہے جنہوں نے مشنکین مکہ کے مظالم سے تنگ آکر اللہ کے حکم سے مدینہ کی جانب ہجرت کی اور مہاجرین کہلاۓ اور یہ مہاجرین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین فضیلت میں اول نمبر پر ہیں۔
انصار مدینہ: اور مدینے کے جن صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین نے ہجرت کرکے آنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو پناہ دی اور انکی ہر طرح سے مدد کی وہ انصار کہلاۓ یہ انصار صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین فضیلت میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے حمایتی اور مددگار ہیں۔
مہاجرین قبل فتح مکہ: اس آیت مبارکہ کے دوسرے حصے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کی تیسری قسم کا ذکر کیا گیا ہے جو مہاجرین اور انصار کے علاوہ ہیں جو مسلمان ہونے کے بعد اپنے ہی علاقوں اور قبیلوں میں مقیم رہے ان کیلۓ اس آیت مبارکہ میں یہ حکم ہے کہ جب تک وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آجائیں تب تک وہ مہاجرین اور انصارمیں سے کسی کی بھی مدد کے مستحق نہیں ہیں۔
مہاجرین فتح مکہ کے بعد: یہ چوتھی قسم کے وہ مہاجرین ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کی۔ ان کو قرگن میں اللہ تعالی نے "سچا مومن" کہا ہے۔ اور انکے لیے بخشش اور جنت کی خوشخبری سنائی ہے۔
جواب: اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے شروع کرتا / کرتی ہوں۔
سوال نمبر 24: ان آیات میں اللہ تعالی نے ہجرت اور نصرت کے بارے میں کیا باتیں ارشاد فرمائیں؟
جواب:مہاجرین اولین: اے آیت مبارکہ میں ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کا ذکر ہے جنہوں نے مشنکین مکہ کے مظالم سے تنگ آکر اللہ کے حکم سے مدینہ کی جانب ہجرت کی اور مہاجرین کہلاۓ اور یہ مہاجرین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین فضیلت میں اول نمبر پر ہیں۔
انصار مدینہ: اور مدینے کے جن صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین نے ہجرت کرکے آنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو پناہ دی اور انکی ہر طرح سے مدد کی وہ انصار کہلاۓ یہ انصار صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین فضیلت میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے حمایتی اور مددگار ہیں۔
مہاجرین قبل فتح مکہ: اس آیت مبارکہ کے دوسرے حصے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کی تیسری قسم کا ذکر کیا گیا ہے جو مہاجرین اور انصار کے علاوہ ہیں جو مسلمان ہونے کے بعد اپنے ہی علاقوں اور قبیلوں میں مقیم رہے ان کیلۓ اس آیت مبارکہ میں یہ حکم ہے کہ جب تک وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آجائیں تب تک وہ مہاجرین اور انصارمیں سے کسی کی بھی مدد کے مستحق نہیں ہیں۔
مہاجرین فتح مکہ کے بعد: یہ چوتھی قسم کے وہ مہاجرین ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کی۔ ان کو قرگن میں اللہ تعالی نے "سچا مومن" کہا ہے۔ اور انکے لیے بخشش اور جنت کی خوشخبری سنائی ہے۔
سوال نمبر 25: سورۃ الانفال کے اہم مضامین کیا ہیں؟
جواب: سورۃ الانفال میں جنگ بدر کے واقعات، مومنوں کی صفات، جہاد کے اصول، مال غنیمت کی تقسیم کے اصول، قیدیوں کے متعلق احکام اور ہجرت و نصرت کا پیغام ہے۔سوال نمبر 26: غزوۂ بدر کس سال ہوا؟ کفار اور مسلمان فوجوں کی تعداد لکھیں؟
جواب: غزوۂ بدر سن 2 ہجری 624 عیسوی میں ہوا۔ مسلمان 313 اور کفار ایک ہزار تھے۔
سوال نمبر 27: تسمیہ ( بسم اللہ الرحمن الرحیم) کا ترجمہ لکھیں؟
جواب: اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے شروع کرتا / کرتی ہوں۔Islamiat اسلامیات - For Class IX - Surah E AnFaal - سورۃ الانفال - مشق کی آیات کا ترجمہ
Go To Index
سورۃ الانفال
مشق کی آیات کا ترجمہ
ترجمہ: اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو۔
ترجمہ: اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے حکم پر چلو۔
ترجمہ: اور جب انہیں اسکی آیات پڑھکر سنائی جاتی ہیں تو انکا ایمان اور بڑھ جاتا ہے
ترجمہ: اے اہل ایمان والو! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔
ترجمہ: اے محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں
ترجمہ: تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آۓ گی۔
ترجمہ: اور ان لوگو جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (حکم الہی) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے۔
ترجمہ: کوئی شک نہیں کہ اللہ کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔
ترجمہ: اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔
ترجمہ: اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے گنہگار ہیں۔
ترجمہ: اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ اللہ کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے۔
ترجمہ: اور اللہ ایسا نہ تھا کہ جب تک اے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ ان میں تشریف فرما ہیں انہیں عذاب دے اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخشش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔
ترجمہ: جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں) کو اللہ کہ رستے سے روکیں سو ابدی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کیلۓ (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔
ترجمہ: اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب اللہ ہی کا ہوجاۓ۔
ترجمہ: مومنوں! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہمراد حاصل کرو۔
ترجمہ: اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم پر چلو ور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہوجاؤگے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو کہ اللہ صبر کرنۓ والو کا مددگار ہے۔
ترجمہ: اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوۓ (یعنی جق کا مقابلہ کرنے کیلۓ) اور لوگوں کو دکھاانے کیلۓ گھروں سے نکل آۓ اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور جو یہ اعمال کرتے ہیں اللہ ان پر احاطہ کۓ ہوۓ ہیں۔
ترجمہ: اورکاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو۔ یہ ان اعمال کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں اور یہ (جان رکھو) کہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
ترجمہ: اور جہاں تک ہوسکے قوت (نشانہ بازی) سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لۓ مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)











































