GO TO INDEX
باب اول : قرآن مجید
حصہ (ب - ۳) : منتخب آیات کا ترجمہ و تشریح
سورة النساء: (آیت 29، 36) سورۃ المائدۂ: (آیت 32، 33، 34)
مختصر سوال و جواب
درسی کتاب کی مشق کا حل
(الف) مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تحریر کریں:
سوال نمبر ۱: مندرجہ ذیل میں سے کسی بھی دو آیات کا ترجم تحریر کریں۔
جواب: ترجمہ
سوال نمبر ۲: ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل کیوں قرار دیا گیا ہے؟۔
جواب: شریعت اسلامیہ میں جتنی تاکید کے ساتھ انسان کے قتل کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے، عصر حاضر میں اس کی اتنی ہی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بلکہ بعض علماء نے سورۃ النساء آیت نمبر 93 کی روشنی میں فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے۔
اگر چہ جمہور علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب تو ضرور ہے مگر وہ اس جرم کی وجہ سے کا فرنہیں ہوتا ہے اور ایک طویل عرصہ تک جہنم میں دردناک عذاب کی سزا پا کر آخر کار وہ جہنم سے نکل جائے گا کیونکہ مذکورہ آیت میں (خَالِدًا فِيْھَا) سے مراد ایک طویل مدت ہے۔ نیز قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والے کی آخرت میں بظاہر معافی نہیں ہے اور اسے اپنے جرم کی سزا آخرت میں ضرور ملے گی اگر چہ مقتول کے ورثاء قاتل سے قصاص نہ لے کر دیت وصول کر لیں یا اسے معاف کر دیں۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو تمام انسانوں کا قتل قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جوکوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (سورۃ المائدہ ۳۲) غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا کیونکہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے، کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے، جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے ، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہو گا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہو جائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، لہذ اقتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔
حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے عظیم خطبہ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کا خون نہ بہایا جائے، چنانچہ ارشاد فرمایا:
"تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لئے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسے تمہارے اس مہینے (ذی الحجہ ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ تم سب اپنے پروردگار سے جا کر ملو گے، پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (صحیح بخاری باب حجة الوداع، صحیح مسلم باب القسامة)
یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گمراہوں کا کام ہے نیز ایک دوسرے کو کا فر یا گمراہ کہہ کر قتل نہ کرنا۔
سوال نمبر 3: قرآن کریم میں امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے لیے کون سی سزائیں مقرر کی ہیں؟
جواب: قرآن کریم میں امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے لیے چار قسم کی سزائیں مقرر کی ہیں۔
سوال نمبر ۱: مندرجہ ذیل میں سے کسی بھی دو آیات کا ترجم تحریر کریں۔
جواب: ترجمہ
آیت نمبر 1 بمعہ ترجمہ
آیت نمبر 2 بمعہ ترجمہ
آیت نمبر 3 بمعہ ترجمہ
سوال نمبر ۲: ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل کیوں قرار دیا گیا ہے؟۔
جواب: شریعت اسلامیہ میں جتنی تاکید کے ساتھ انسان کے قتل کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے، عصر حاضر میں اس کی اتنی ہی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بلکہ بعض علماء نے سورۃ النساء آیت نمبر 93 کی روشنی میں فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے۔
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَاَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ۔(سورة النسآء ۔آیت ۹۳)
ترجمہ:۔ "اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔"اگر چہ جمہور علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب تو ضرور ہے مگر وہ اس جرم کی وجہ سے کا فرنہیں ہوتا ہے اور ایک طویل عرصہ تک جہنم میں دردناک عذاب کی سزا پا کر آخر کار وہ جہنم سے نکل جائے گا کیونکہ مذکورہ آیت میں (خَالِدًا فِيْھَا) سے مراد ایک طویل مدت ہے۔ نیز قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والے کی آخرت میں بظاہر معافی نہیں ہے اور اسے اپنے جرم کی سزا آخرت میں ضرور ملے گی اگر چہ مقتول کے ورثاء قاتل سے قصاص نہ لے کر دیت وصول کر لیں یا اسے معاف کر دیں۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو تمام انسانوں کا قتل قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جوکوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (سورۃ المائدہ ۳۲) غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا کیونکہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے، کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے، جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے ، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہو گا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہو جائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، لہذ اقتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔
حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے عظیم خطبہ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کا خون نہ بہایا جائے، چنانچہ ارشاد فرمایا:
"تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لئے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسے تمہارے اس مہینے (ذی الحجہ ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ تم سب اپنے پروردگار سے جا کر ملو گے، پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (صحیح بخاری باب حجة الوداع، صحیح مسلم باب القسامة)
یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گمراہوں کا کام ہے نیز ایک دوسرے کو کا فر یا گمراہ کہہ کر قتل نہ کرنا۔
سوال نمبر 3: قرآن کریم میں امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے لیے کون سی سزائیں مقرر کی ہیں؟
جواب: قرآن کریم میں امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے لیے چار قسم کی سزائیں مقرر کی ہیں۔
- بری طرح قتل کر دیۓ جائیں۔ (جرم: ڈاکہ ڈالہ مال نہ لے سکا اور آدمی قتل کیا)
- سولی چڑھا دیۓ جائیں۔ (جرم: مال بھی لیا اور قتل بھی کیا۔ اس نے دو جرم کۓ ہیں اسلۓ پہلے اسکو سولی پر لٹکایا جاۓ پھر نیزے مار مار کر اسکو ہلاک کردیا جاۓ۔)
- ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیۓ جائیں۔ (جرم: مال لیا اور قتل نہ کیا۔ "من خلاف" سے مراد ہے کہ اگر دائیاں ہاتھ کاٹا ہے تو بایاں پیر کاٹا جاۓ اور اگر بایاں ہاتھ ہے تو دائیاں پیر کاٹا جاۓ.)
- جلا وطن (ملک سے نکال) دیۓ جائیں۔ (جرم: نہ مال لیا اور نہ قتل کیا۔ "ینفوا من الارض" کا مطلب جلا وطن ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اس سے قید مراد ہے۔)
Bhai is me aik mistake hai upar pehle sawaal ke jawaab me Jo ayat likhi hui hai us ma feeha feehe nahi tou please use theek kar lijiye
ReplyDeleteMain is ayat ko quarn pak se dekh k correction karta hoon.
DeleteAp ne Surah-Al-Nisa ki Ayat no.93 ko kaha hai jo sawal number 2 main di howi hai .
We have made correction
ReplyDeleteJAZAKALLAH
Thank you I have messaged you to correct it classXI Green island Muhammad Ali
DeleteThank you I have messaged you to correct it classXI Green island Muhammad Ali
DeleteThank you very much Muhammad Ali for valuable feed backs
Deletestay blessed
JAZAKALLAH